عربی (اصل)
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، - رضى الله عنه - قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَنِي إِلَى الْيَمَنِ قَالَ فَوَافَقْتُهُ فِي الْعَامِ الَّذِي حَجَّ فِيهِ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أَبَا مُوسَى كَيْفَ قُلْتَ حِينَ أَحْرَمْتَ " . قَالَ قُلْتُ لَبَّيْكَ إِهْلاَلاً كَإِهْلاَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ " هَلْ سُقْتَ هَدْيًا " . فَقُلْتُ لاَ . قَالَ " فَانْطَلِقْ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ . ثُمَّ أَحِلَّ " . ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَسُفْيَانَ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Musa (Allah be pleased with him) reported that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) (May peace be upon im) had sent me to Yemen and I came back In the year in which he (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) performed the (Farewell) Pilgrimage. the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) (may peace be upon, him) said to me: Hadrat Abu Musa, what did you ' say when you entered into the state of Ihram? I said: At thy beck and call; my (Ihram) is that of the Ihram of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him). He said: Have you brought the sacrificial animals? I said: No. Thereupon he said: Go and circumambulate the House, and (run) between al-Safa' and al-Marwa and then put off Ihram. The rest of the hadith is the same
اردو ترجمہ
ابو عمیس نے ہمیں قیس بن مسلم سے خبر دی ، انھوں نے طارق بن شہاب سے ، انھوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یمن بھیجاتھا ، پھر میری آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اس سال ملاقات ہوئی جس میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حج ادا فرمایا ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : " حضرت ابو موسیٰ! " تم نے کون سا تلبیہ پکارا ہے؟ ( حج کا ، عمرے کا ، یا دونوں کا؟ ) " میں نے عرض کی : میں نے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم والا تلبیہ پکارا ۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ تم قربانی ساتھ لائے ہو؟ میں نے کہا نہیں تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کر کے احرام کھول ڈالو ۔ آگے ( ابو عمیس نے ) شعبہ اور سفیان ہی کی طرح حدیث بیان کی ۔
