حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ. فَقَالَ " أَحَجَجْتَ ". قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ " بِمَا أَهْلَلْتَ ". قُلْتُ لَبَّيْكَ بِإِهْلاَلٍ كَإِهْلاَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. قَالَ " أَحْسَنْتَ، انْطَلِقْ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ". ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ بَنِي قَيْسٍ، فَفَلَتْ رَأْسِي، ثُمَّ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ، فَكُنْتُ أُفْتِي بِهِ النَّاسَ، حَتَّى خِلاَفَةِ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ فَذَكَرْتُهُ لَهُ. فَقَالَ إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُنَا بِالتَّمَامِ، وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَحِلَّ حَتَّى بَلَغَ الْهَدْىُ مَحِلَّهُ.
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Abu Musa (may Allah be well pleased with him) that I came upon the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) when he was at al-Batha. He asked me, 'Have you intended to perform the Hajj?' I submitted, 'Yes.' He asked, 'For what have you assumed Ihram?' I submitted, 'I have assumed Ihram with the same intention as that of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him).' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'You have done well! Go and perform Tawaf round the Ka'ba and between Safa and Marwa.' Then I went to one of the women of Banu Qais and she took out lice from my head. Later, I assumed the Ihram for Hajj. So, I used to give this verdict to the people till the caliphate of Hadrat 'Umar (may Allah be well pleased with him). When I mentioned it to him, he stated, 'If we take (follow) the Holy Book, then it orders us to complete Hajj and 'Umra (Hajj at-Tamattu'), and if we follow the tradition of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) then the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) did not finish his Ihram till the Hadi had reached its destination (had been slaughtered).'
اردو ترجمہ
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے والد حضرت عثمان نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں قیس بن مسلم نے، انہیں طارق بن شہاب نے اور ان سے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بطحاء میں تشریف فرما تھے (جو مکہ مکرمہ کے قریب ایک جگہ ہے)۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تو نے حج کی نیت فرمائی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تو نے احرام کس چیز کا باندھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے احرام کی طرح باندھا ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تو نے اچھا کیا، اب جا۔ چنانچہ (مکہ مکرمہ تشریف لا کر) میں نے بیت اللہ کا طواف فرمایا اور صفا و مروہ کی سعی فرمائی، پھر میں بنو قیس کی ایک خاتون کے پاس آیا اور انہوں نے میرے سر کی جوئیں نکالیں۔ اس کے بعد میں نے حج کی لبیک پکاری۔ اس کے بعد میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت تک اسی کا فتویٰ دیتا رہا، پھر جب میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کا ذکر فرمایا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ ہمیں کتاب اللہ پر بھی عمل کرنا چاہیے اور اس میں پورا کرنے کا حکم ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر بھی عمل کرنا چاہیے اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم قربانی سے پہلے حلال نہیں ہوئے تھے۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (8)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحیح بخاری
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ…
صحیح بخاری
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صلى الل…
صحیح بخاری
حَدَّثَنِي بَيَانٌ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ سَمِعْتُ طَارِقًا، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى النَّبِي…
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ. فَقَالَ " أَحَجَجْتَ ". قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ " بِمَا أَهْلَلْتَ ". قُلْتُ لَبَّيْكَ بِإِهْلاَلٍ كَإِهْلاَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. قَالَ " أَحْسَنْتَ، انْطَلِقْ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ". ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ بَنِي قَيْسٍ، فَفَلَتْ رَأْسِي، ثُمَّ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ، فَكُنْتُ أُفْتِي بِهِ النَّاسَ، حَتَّى خِلاَفَةِ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ فَذَكَرْتُهُ لَهُ. فَقَالَ إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُنَا بِالتَّمَامِ، وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَحِلَّ حَتَّى بَلَغَ الْهَدْىُ مَحِلَّهُ.
It is narrated by Hadrat Abu Musa (may Allah be well pleased with him) that I came upon the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) when he was at al-Batha. He asked me, 'Have you intended to perform the Hajj?' I submitted, 'Yes.' He asked, 'For what have you assumed Ihram?' I submitted, 'I have assumed Ihram with the same intention as that of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him).' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'You have done well! Go and perform Tawaf round the Ka'ba and between Safa and Marwa.' Then I went to one of the women of Banu Qais and she took out lice from my head. Later, I assumed the Ihram for Hajj. So, I used to give this verdict to the people till the caliphate of Hadrat 'Umar (may Allah be well pleased with him). When I mentioned it to him, he stated, 'If we take (follow) the Holy Book, then it orders us to complete Hajj and 'Umra (Hajj at-Tamattu'), and if we follow the tradition of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) then the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) did not finish his Ihram till the Hadi had reached its destination (had been slaughtered).'
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے والد حضرت عثمان نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں قیس بن مسلم نے، انہیں طارق بن شہاب نے اور ان سے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بطحاء میں تشریف فرما تھے (جو مکہ مکرمہ کے قریب ایک جگہ ہے)۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تو نے حج کی نیت فرمائی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تو نے احرام کس چیز کا باندھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے احرام کی طرح باندھا ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تو نے اچھا کیا، اب جا۔ چنانچہ (مکہ مکرمہ تشریف لا کر) میں نے بیت اللہ کا طواف فرمایا اور صفا و مروہ کی سعی فرمائی، پھر میں بنو قیس کی ایک خاتون کے پاس آیا اور انہوں نے میرے سر کی جوئیں نکالیں۔ اس کے بعد میں نے حج کی لبیک پکاری۔ اس کے بعد میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت تک اسی کا فتویٰ دیتا رہا، پھر جب میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کا ذکر فرمایا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ ہمیں کتاب اللہ پر بھی عمل کرنا چاہیے اور اس میں پورا کرنے کا حکم ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر بھی عمل کرنا چاہیے اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم قربانی سے پہلے حلال نہیں ہوئے تھے۔