عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلاَمٌ فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ فَقَالَتِ الأَنْصَارُ لاَ نَكْنِيكَ أَبَا الْقَاسِمِ وَلاَ نُنْعِمُكَ عَيْنًا، فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وُلِدَ لِي غُلاَمٌ، فَسَمَّيْتُهُ الْقَاسِمَ فَقَالَتِ الأَنْصَارُ لاَ نَكْنِيكَ أَبَا الْقَاسِمِ وَلاَ نُنْعِمُكَ عَيْنًا. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَحْسَنَتِ الأَنْصَارُ، سَمُّوا بِاسْمِي، وَلاَ تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي، فَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ ".
انگریزی ترجمہ
Muhammad ibn Yusuf narrated to us, Sufyan narrated to us, from al-A'mash, from Salim ibn Abi al-Ja'd, from Hadrat Jabir ibn Hadrat 'Abdullah al-Ansari (may Allah be well pleased with them both), who said: A boy was born to a man among us and he named him al-Qasim. The Ansar said: 'We will not call you Abu al-Qasim as a kunyah, nor will we gratify your eyes (with this name).' He came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), a boy was born to me and I named him al-Qasim, but the Ansar said: We will not call you Abu al-Qasim as a kunyah, nor will we gratify your eyes.' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'The Ansar have done well. Name yourselves with my name, but do not adopt my kunyah, for I am but the distributor.'
اردو ترجمہ
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، اعمش سے، انہوں نے سالم بن ابی الجعد سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے، انہوں نے فرمایا: ہم میں سے ایک شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اور اس نے اس کا نام قاسم رکھا۔ انصار نے کہا: ہم تمہیں ابو القاسم کی کنیت نہیں دیں گے اور نہ تمہاری آنکھ ٹھنڈی کریں گے (یعنی اس نام کی خوشی نہیں منائیں گے)۔ وہ شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ہاں لڑکا پیدا ہوا ہے اور میں نے اس کا نام قاسم رکھا ہے۔ انصار نے کہا: ہم تمہیں ابو القاسم کی کنیت نہیں دیں گے اور نہ تمہاری آنکھ ٹھنڈی کریں گے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انصار نے اچھا کیا۔ میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو، کیونکہ میں تو قاسم (تقسیم کرنے والا) ہوں۔
