عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ جَاءَ نَفَرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " يَا بَنِي تَمِيمٍ، أَبْشِرُوا ". قَالُوا بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا. فَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ، فَجَاءَهُ أَهْلُ الْيَمَنِ، فَقَالَ " يَا أَهْلَ الْيَمَنِ، اقْبَلُوا الْبُشْرَى إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ ". قَالُوا قَبِلْنَا. فَأَخَذَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُحَدِّثُ بَدْءَ الْخَلْقِ وَالْعَرْشِ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا عِمْرَانُ، رَاحِلَتُكَ تَفَلَّتَتْ، لَيْتَنِي لَمْ أَقُمْ.
انگریزی ترجمہ
It is narrated from Hadrat ' Imran bin Husain (may Allah be well pleased with them both) that some people of Banu Tamim came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), and he declared: O Banu Tamim! Accept the glad tidings! They said: You have given us glad tidings, so now give us some wealth. At this, the color of his blessed countenance changed. Then the people of Yemen came, and he declared: O people of Yemen! Accept the glad tidings, since Banu Tamim did not accept them. They submitted: We accept them. Then the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) began speaking about the beginning of creation and the Throne. In the meantime, a man came and said: O 'Imran! Your she-camel has run away! (Hadrat 'Imran (may Allah be well pleased with him) stated:) I wish I had not left that gathering!
اردو ترجمہ
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ بنو تمیم کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بنو تمیم! بشارت قبول کرو! انہوں نے کہا: آپ نے بشارت دے دی تو اب ہمیں کچھ مال بھی دیجیے۔ اس پر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ مبارک کا رنگ بدل گیا۔ پھر اہلِ یمن آئے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اہلِ یمن! بشارت قبول کرو، جب بنو تمیم نے قبول نہیں کی۔ انہوں نے عرض کیا: ہم نے قبول کی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ابتدائے خلق اور عرش کے بارے میں بیان فرمانے لگے۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور کہا: اے عمران! تمہاری اونٹنی بھاگ گئی! (حضرت عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:) کاش میں (آپ کی مجلس سے) نہ اٹھتا!
