It is narrated by Hadrat `Urwa that Az-Zubair quarrelled with a man from the Ansar because of a natural mountainous stream at Al-Harra. the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "O Hadrat Zubair! Irrigate (your lands) and then let the water flow to your neighbor." The Ansar said, "O Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) (This is because) he (Hadrat Zubair) is your cousin?" At that, the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)'s face became red (with anger) and he said "O Hadrat Zubair! Irrigate (your land) and then withhold the water till it fills the land up to the walls and then let it flow to your neighbor." So the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) enabled Az-Zubair to take his full right after the Ansari provoked his anger. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) had previously given an order that was in favor of both of them Az-Zubair said, "I don't think but the Verse was revealed in this connection: "But no, by your Lord, they can have no faith, until they make you judge in all disputes between them
Urdu Translation
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے اور ان سے عروہ بن حضرت زبیر نے بیان کیا کہ حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک انصاری صحابی سے مقام حرہ کی ایک نالی کے بارے میں جھگڑا ہو گیا ( کہ اس سے کون اپنے باغ کو پہلے سینچنے کا حق رکھتا ہے ) نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حضرت زبیر! پہلے تم اپنے باغ سینچ لو پھر اپنے پڑوسی کو جلد پانی دے دینا۔ اس پر اس انصاری صحابی نے کہا: یا رسول اللہ! اس لیے کہ یہ آپ کے پھوپھی زاد بھائی ہیں؟ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حضرت زبیر! اپنے باغ کو سینچو اور پانی اس وقت تک روکے رکھو کہ منڈیر تک بھر جائے، پھر اپنے پڑوسی کے لیے اسے چھوڑو۔ ( پہلے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انصاری کے ساتھ اپنے فیصلے میں رعایت رکھی تھی ) لیکن اس مرتبہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو صاف طور پر ان کا پورا حق دے دیا کیونکہ انصاری نے ایسی بات کہی تھی۔ جس سے آپ کا غصہ ہونا قدرتی تھا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پہلے فیصلہ میں دونوں کے لیے رعایت رکھی تھی۔ حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے، یہ آیات اسی سلسلے میں نازل ہوئی تھیں «فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم» ”تیرے پروردگار کی قسم ہے کہ یہ لوگ ایماندار نہ ہوں گے جب تک یہ اس جھگڑے میں جو ان کے آپس میں ہوں آپ کو حکم نہ بنا لیں اور آپ کے فیصلے کو کھلے دل کے ساتھ برضا و رغبت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ ہوں۔“
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (15)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
Sahih al-Bukhari
" اسْقِ ثُمَّ احْبِسْ حَتَّى يَبْلُغَ الْجَدْرَ ". فَاسْتَوْعَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَئِذٍ حَقَّهُ لِلزُّبَيْرِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبْلَ ذَلِكَ أَشَارَ عَلَى الزُّبَيْرِ …
It is narrated by Hadrat `Urwa that Az-Zubair quarrelled with a man from the Ansar because of a natural mountainous stream at Al-Harra. the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "O Hadrat Zubair! Irrigate (your lands) and then let the water flow to your neighbor." The Ansar said, "O Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) (This is because) he (Hadrat Zubair) is your cousin?" At that, the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)'s face became red (with anger) and he said "O Hadrat Zubair! Irrigate (your land) and then withhold the water till it fills the land up to the walls and then let it flow to your neighbor." So the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) enabled Az-Zubair to take his full right after the Ansari provoked his anger. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) had previously given an order that was in favor of both of them Az-Zubair said, "I don't think but the Verse was revealed in this connection: "But no, by your Lord, they can have no faith, until they make you judge in all disputes between them
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے اور ان سے عروہ بن حضرت زبیر نے بیان کیا کہ حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک انصاری صحابی سے مقام حرہ کی ایک نالی کے بارے میں جھگڑا ہو گیا ( کہ اس سے کون اپنے باغ کو پہلے سینچنے کا حق رکھتا ہے ) نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حضرت زبیر! پہلے تم اپنے باغ سینچ لو پھر اپنے پڑوسی کو جلد پانی دے دینا۔ اس پر اس انصاری صحابی نے کہا: یا رسول اللہ! اس لیے کہ یہ آپ کے پھوپھی زاد بھائی ہیں؟ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حضرت زبیر! اپنے باغ کو سینچو اور پانی اس وقت تک روکے رکھو کہ منڈیر تک بھر جائے، پھر اپنے پڑوسی کے لیے اسے چھوڑو۔ ( پہلے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انصاری کے ساتھ اپنے فیصلے میں رعایت رکھی تھی ) لیکن اس مرتبہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو صاف طور پر ان کا پورا حق دے دیا کیونکہ انصاری نے ایسی بات کہی تھی۔ جس سے آپ کا غصہ ہونا قدرتی تھا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پہلے فیصلہ میں دونوں کے لیے رعایت رکھی تھی۔ حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے، یہ آیات اسی سلسلے میں نازل ہوئی تھیں «فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم» ”تیرے پروردگار کی قسم ہے کہ یہ لوگ ایماندار نہ ہوں گے جب تک یہ اس جھگڑے میں جو ان کے آپس میں ہوں آپ کو حکم نہ بنا لیں اور آپ کے فیصلے کو کھلے دل کے ساتھ برضا و رغبت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ ہوں۔“