Arabic (Original)
أَخْبَرَنَامُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنَّابْنَ وَهْبٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ: أَنِييُونُسُ بْنُ يَزِيدَوَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِابْنِ شِهَابٍ، أَنَّعُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ، أَنَّعَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِحَدَّثَهُ، عَنِالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ خَاصَمَ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجٍ مِنَ الْحَرَّةِ كَانَا يَسْقِيَانِ بِهِ كِلاهُمَا النَّخْلَ، فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ: سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرُّ فَأَبَى عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ"، فَغَضِبَ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ، فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجِذْرِ"، وَاسْتَوْعَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ ذَلِكَ أَشَارَ عَلَى الزُّبَيْرِ بِرَأْيٍ أَرَادَ فِيهِ السَّعَةَ لِلزُّبَيْرِ وَلِلأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: مَا أَحْسَبُ هَذِهِ الآيَةَ إِلا نزلت فِي ذَلِكَ: فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ سورة النساء آية 65 الآيَةَ، وَأَحَدُهُمَا يَزِيدُ عَلَى صَاحِبِهِ فِي الْقِصَّةِ.
English Translation
Al-Zubayr ibn al-Awwam (may Allah be pleased with him) disputed with a man from the Ansar — who had witnessed the Battle of Badr with the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) — before the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) about a water channel from the Harrah that they both used to irrigate their palm trees. The Ansari said: Let the water flow through. But he refused. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: "Irrigate, O Zubayr, then send the water to your neighbor." The Ansari became angry and said: O Messenger of Allah, is it because he is the son of your aunt? The face of the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) changed color, then he said: "Irrigate, O Zubayr, then hold the water until it reaches the walls [of your garden]." Thus the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) gave al-Zubayr his full right. Before that, the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) had suggested a compromise that would have been accommodating for both al-Zubayr and the Ansari. Al-Zubayr said: I believe this verse was revealed regarding that: "But no, by your Lord, they will not believe until they make you judge in all disputes between them" [al-Nisa 4:65].
Urdu Translation
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اور ایک انصاری آدمی جو کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ جنگ بدر میں شریک ہوا تھا، حرہ (مدینہ کے قریب ایک جگہ) کی نالیوں کے بارے میں جھگڑا لے کر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آئے، جن سے وہ دونوں اپنی کھجوروں کو سیراب کیا کرتے تھے، انصاری کہتا تھا: پانی کو بہنے دیا کریں، روکا نہ کریں، جب کہ (سیدنا زبیر) اس کا انکار کر رہے تھے، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: زبیر! کھیتی سیراب کرنے کے بعد پانی اپنے پڑوسی کی طرف چھوڑ دیا کریں۔ انصاری ناراض ہو کر کہنے لگا: اللہ کے رسول! یہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے، اس لیے آپ نے ایسا فیصلہ کیا ہے۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے چہرے کا رنگ (غصے سے) بدل گیا، پھر فرمایا: زبیر! کھیتی کو سیراب کر کے پانی کو روکے رکھنا حتیٰ کہ وہ منڈیروں تک پہنچ جائے۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے سیدنا زبیر کو پورا پورا حق دیا، جب کہ پہلے آپ نے سیدنا زبیر کو اپنی طرف سے ایسا مشورہ دیا تھا، جس میں سیدنا زبیر اور انصاری دونوں کے لیے گنجائش موجود تھی، سیدنا زبیر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی ہے:﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ﴾(النساء: 65) (اللہ کی قسم! یہ مؤمن نہیں ہو سکتے حتیٰ کہ آپ کو اپنے جھگڑوں میں فیصلہ تسلیم کر لیں۔) ایک راوی نے دوسرے کی نسبت لمبا واقعہ بیان کیا ہے۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1021]
