Arabic (Original)
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ ثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ أَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ عَنْ عَمِّهِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ اسْتَعْدَى عَلَيَّ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ فَقَالَ «يَا زُبَيْرُ اسْقِ ثُمَّ أَرْسَلَ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ» فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَقَالَ «يَا زُبَيْرُ اسْقِ ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَبْلُغَ الْجَدْرَ ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَى جَارِكَ» فَاسْتَوْعَبَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ فَقَالَ الزُّبَيْرُ إِنِّي لَأَحْسَبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي خُصُومَتِي {فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ} [النساء 65] الْآيَةَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» فَإِنِّي لَا أَعْلَمُ أَحَدًا أَقَامَ هَذَا الْإِسْنَادَ عَنِ الزُّهْرِيِّ يَذْكُرُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ أَخِيهِ وَهُوَ عَنْهُ ضِيقٌ
English Translation
Ali ibn Hamshad al-Adl narrated to me, al-Abbas ibn al-Fadl al-Asfati informed us, Abu Nu'aym Dirar ibn Surad narrated to us, Abd al-Aziz ibn Muhammad al-Darawardi narrated to us, Muhammad ibn Abdullah ibn Muslim al-Zuhri narrated to us from his uncle, from Urwa ibn al-Zubayr, from Hadrat Abdullah ibn al-Zubayr (may Allah be well pleased with them both), from Hadrat al-Zubayr ibn al-Awwam (may Allah be well pleased with him) who said: A man from the Ansar sought judgement against me before the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) regarding the water channels of al-Harra. He stated: "O Zubayr, irrigate and then send the water to your neighbour." The Ansari said: "O Messenger of Allah, is it because he is the son of your aunt?" The face of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) changed colour and he stated: "O Zubayr, irrigate and then hold the water until it reaches the embankments, then send it to your neighbour." Thus the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) gave al-Zubayr his full right. Al-Zubayr said: "I believe this verse was revealed concerning my dispute: 'But no, by your Lord, they will not believe until they make you judge in all disputes between them' [al-Nisa 65]."
Urdu Translation
علی بن حمشاذ عدل نے مجھے بیان کیا، عباس بن الفضل اسفاطی نے ہمیں خبر دی، ابو نعیم ضرار بن صرد نے ہمیں بیان کیا، عبد العزیز بن محمد دراوردی نے ہمیں بیان کیا، محمد بن عبد اللہ بن مسلم زہری نے اپنے چچا سے، عروہ بن الزبیر سے، حضرت عبد اللہ بن الزبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے، حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا، فرمایا: ایک انصاری نے حرہ کی نالیوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے میرے خلاف فریاد کی۔ آپ نے ارشاد فرمایا: «اے زبیر! پانی لگاؤ پھر اپنے پڑوسی کو بھیج دو۔» انصاری نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اس لیے کہ یہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا اور ارشاد فرمایا: «اے زبیر! پانی لگاؤ پھر بند تک روکو پھر اپنے پڑوسی کو بھیجو۔» اس طرح رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے زبیر کو ان کا پورا حق دلوایا۔ حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں سمجھتا ہوں یہ آیت میرے جھگڑے کے بارے میں نازل ہوئی: ‹نہیں، تیرے رب کی قسم وہ مومن نہیں ہوں گے جب تک اپنے آپس کے تمام جھگڑوں میں تجھے فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں› [النساء ۶۵]۔
