حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ذَكَرَ عُرْوَةُ أَنَّ مَرْوَانَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَاهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَامَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ، فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ فَقَالَ " إِنَّ مَعِي مَنْ تَرَوْنَ، وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَىَّ أَصْدَقُهُ، فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ إِمَّا الْمَالَ، وَإِمَّا السَّبْىَ، وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِهِمْ ". وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم انْتَظَرَهُمْ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِينَ قَفَلَ مِنَ الطَّائِفِ، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلاَّ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ قَالُوا فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا. فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي النَّاسِ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ جَاءُونَا تَائِبِينَ، وَإِنِّي رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ ". فَقَالَ النَّاسُ طَيَّبْنَا ذَلِكَ. قَالَ " إِنَّا لاَ نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ ". فَرَجَعَ النَّاسُ، فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا، فَهَذَا الَّذِي بَلَغَنَا عَنْ سَبْىِ هَوَازِنَ. وَقَالَ أَنَسٌ قَالَ عَبَّاسٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَادَيْتُ نَفْسِي، وَفَادَيْتُ عَقِيلاً.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Marwan and Hadrat Miswar bin Makhrama (may Allah be well pleased with them both) that when the delegation of the tribe of Hawazin came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and requested the return of their property and captives, he (blessings and peace of Allah be upon him) stood up and stated: 'I have others with me as you can see. The most beloved speech to me is the truthful one. Choose one of two things: either the property or the captives. I had been waiting for you.' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) had waited for them for more than ten nights after returning from Ta'if. When it became clear to them that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) would return only one of the two, they said: 'We choose our captives.' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stood among the people, praised and glorified Allah as He deserves, then stated: 'As for what follows - your brethren have come to us repentant, and I deem it proper to return their captives to them. So whoever among you wishes to do this willingly, let him do so. And whoever wishes to hold on to his share until we compensate him from the first war booty that Allah grants us, let him do so.' The people said: 'We do this willingly.' He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'We cannot tell who among you has consented and who has not. Go back and let your leaders convey your decision to us.' The people went back, their leaders spoke to them, then returned to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and informed him that all had willingly consented. This is what has reached us regarding the captives of Hawazin. Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) narrated: Hadrat Abbas (may Allah be well pleased with him) submitted to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him): 'I have paid the ransom for myself and for 'Aqil.'
الترجمة الأردية
حضرت مروان اور حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ جب قبیلہ ہوازن کا وفد نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور درخواست کی کہ ان کے مال اور قیدی واپس کر دیے جائیں، تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا: میرے ساتھ جو لوگ ہیں وہ تم دیکھ رہے ہو۔ مجھے سب سے زیادہ سچی بات پسند ہے۔ تم دونوں میں سے ایک چن لو: یا مال یا قیدی۔ میں تمہارے (آنے کے) انتظار میں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم طائف سے واپسی کے بعد دس سے زیادہ راتیں ان کا انتظار فرما رہے تھے۔ جب انہیں واضح ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم دونوں میں سے ایک ہی واپس فرمائیں گے تو انہوں نے کہا: ہم اپنے قیدیوں کو اختیار کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان فرمائی جیسی اس کی شان ہے، پھر ارشاد فرمایا: اما بعد! تمہارے بھائی توبہ کر کے آئے ہیں اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ان کے قیدی واپس کر دوں۔ پس تم میں سے جو خوشی سے ایسا کرنا چاہے وہ کرے، اور جو اپنے حصے پر قائم رہنا چاہے یہاں تک کہ ہم اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے آنے والے مالِ فے سے ادائیگی کریں، وہ بھی ایسا کرے۔ لوگوں نے کہا: ہم خوشی سے ایسا کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہمیں معلوم نہیں کہ تم میں سے کس نے اجازت دی ہے اور کس نے نہیں دی۔ واپس جاؤ اور اپنے سرداروں سے ہمارے سامنے اپنا فیصلہ پیش کرو۔ لوگ واپس گئے، سرداروں نے بات کی، پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر بتایا کہ سب نے رضامندی سے اجازت دے دی ہے۔ قیدیانِ ہوازن کے بارے میں یہی واقعہ ہم تک پہنچا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: میں نے اپنا اور عقیل کا فدیہ ادا کیا ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ذَكَرَ عُرْوَةُ أَنَّ مَرْوَانَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَاهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَامَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ، فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ فَقَالَ " إِنَّ مَعِي مَنْ تَرَوْنَ، وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَىَّ أَصْدَقُهُ، فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ إِمَّا الْمَالَ، وَإِمَّا السَّبْىَ، وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِهِمْ ". وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم انْتَظَرَهُمْ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِينَ قَفَلَ مِنَ الطَّائِفِ، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلاَّ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ قَالُوا فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا. فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي النَّاسِ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ جَاءُونَا تَائِبِينَ، وَإِنِّي رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ ". فَقَالَ النَّاسُ طَيَّبْنَا ذَلِكَ. قَالَ " إِنَّا لاَ نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ ". فَرَجَعَ النَّاسُ، فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا، فَهَذَا الَّذِي بَلَغَنَا عَنْ سَبْىِ هَوَازِنَ. وَقَالَ أَنَسٌ قَالَ عَبَّاسٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَادَيْتُ نَفْسِي، وَفَادَيْتُ عَقِيلاً.
It is narrated by Hadrat Marwan and Hadrat Miswar bin Makhrama (may Allah be well pleased with them both) that when the delegation of the tribe of Hawazin came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and requested the return of their property and captives, he (blessings and peace of Allah be upon him) stood up and stated: 'I have others with me as you can see. The most beloved speech to me is the truthful one. Choose one of two things: either the property or the captives. I had been waiting for you.' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) had waited for them for more than ten nights after returning from Ta'if. When it became clear to them that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) would return only one of the two, they said: 'We choose our captives.' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stood among the people, praised and glorified Allah as He deserves, then stated: 'As for what follows - your brethren have come to us repentant, and I deem it proper to return their captives to them. So whoever among you wishes to do this willingly, let him do so. And whoever wishes to hold on to his share until we compensate him from the first war booty that Allah grants us, let him do so.' The people said: 'We do this willingly.' He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'We cannot tell who among you has consented and who has not. Go back and let your leaders convey your decision to us.' The people went back, their leaders spoke to them, then returned to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and informed him that all had willingly consented. This is what has reached us regarding the captives of Hawazin. Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) narrated: Hadrat Abbas (may Allah be well pleased with him) submitted to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him): 'I have paid the ransom for myself and for 'Aqil.'
حضرت مروان اور حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ جب قبیلہ ہوازن کا وفد نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور درخواست کی کہ ان کے مال اور قیدی واپس کر دیے جائیں، تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا: میرے ساتھ جو لوگ ہیں وہ تم دیکھ رہے ہو۔ مجھے سب سے زیادہ سچی بات پسند ہے۔ تم دونوں میں سے ایک چن لو: یا مال یا قیدی۔ میں تمہارے (آنے کے) انتظار میں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم طائف سے واپسی کے بعد دس سے زیادہ راتیں ان کا انتظار فرما رہے تھے۔ جب انہیں واضح ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم دونوں میں سے ایک ہی واپس فرمائیں گے تو انہوں نے کہا: ہم اپنے قیدیوں کو اختیار کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان فرمائی جیسی اس کی شان ہے، پھر ارشاد فرمایا: اما بعد! تمہارے بھائی توبہ کر کے آئے ہیں اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ان کے قیدی واپس کر دوں۔ پس تم میں سے جو خوشی سے ایسا کرنا چاہے وہ کرے، اور جو اپنے حصے پر قائم رہنا چاہے یہاں تک کہ ہم اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے آنے والے مالِ فے سے ادائیگی کریں، وہ بھی ایسا کرے۔ لوگوں نے کہا: ہم خوشی سے ایسا کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہمیں معلوم نہیں کہ تم میں سے کس نے اجازت دی ہے اور کس نے نہیں دی۔ واپس جاؤ اور اپنے سرداروں سے ہمارے سامنے اپنا فیصلہ پیش کرو۔ لوگ واپس گئے، سرداروں نے بات کی، پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر بتایا کہ سب نے رضامندی سے اجازت دے دی ہے۔ قیدیانِ ہوازن کے بارے میں یہی واقعہ ہم تک پہنچا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: میں نے اپنا اور عقیل کا فدیہ ادا کیا ہے۔