صحيح البخاريRepresentation, Authorization, Business by Proxy#2308صحيح
العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ وَزَعَمَ عُرْوَةُ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ، فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَىَّ أَصْدَقُهُ. فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ إِمَّا السَّبْىَ، وَإِمَّا الْمَالَ، وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِهِمْ ". وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْتَظَرَهُمْ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، حِينَ قَفَلَ مِنَ الطَّائِفِ، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلاَّ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ قَالُوا فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا. فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمُسْلِمِينَ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ هَؤُلاَءِ قَدْ جَاءُونَا تَائِبِينَ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ بِذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ ". فَقَالَ النَّاسُ قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّا لاَ نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ فِي ذَلِكَ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ، فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعُوا إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ ". فَرَجَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated from Hadrat Marwan bin al-Hakam and Hadrat Miswar bin Makhrama (may Allah be well pleased with them both) that when the delegates of the tribe of Hawazin came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) after embracing Islam, they appealed to him to return their property and captives. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'The most beloved speech to me is the truthful one. Choose one of two options: either the captives or the wealth. I had been waiting for you.' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) had waited for them for more than ten nights after returning from Ta'if. When they realized he would only return one of the two, they said: 'We choose our captives.' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) then stood among the Muslims, praised Allah as He deserves, and stated: 'As for what follows: these brethren of yours have come repentant. I see it fitting to return their captives to them. Whoever among you wishes to do this willingly, let him do so; and whoever wishes to keep his share until we compensate him from the first spoils Allah grants us, let him do so.' The people said: 'We have willingly given them up for the sake of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him).' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'We cannot distinguish who among you has consented and who has not. Return and let your chiefs convey your decision to us.' The people returned, their chiefs spoke to them, and then came back to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) informing him that everyone had willingly consented.
الترجمة الأردية
حضرت مروان بن حکم اور حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ جب ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور انہوں نے درخواست کی کہ ان کے مال اور قیدی واپس کر دیے جائیں، تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے سب سے پسندیدہ بات سچی بات ہے۔ تم دونوں میں سے ایک چیز اختیار کر لو: یا تو قیدی لے لو یا مال۔ میں نے تمہارے آنے کا انتظار کیا تھا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے طائف سے واپسی کے بعد دس سے زائد راتیں ان کا انتظار فرمایا تھا۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم صرف ایک ہی چیز واپس فرمائیں گے تو انہوں نے کہا: ہم اپنے قیدی اختیار کرتے ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں میں کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی شایانِ شان حمد و ثنا بیان فرمائی، پھر ارشاد فرمایا: امّا بعد! تمہارے یہ بھائی توبہ کر کے آئے ہیں اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ان کے قیدی واپس کر دوں۔ تم میں سے جو خوشدلی سے ایسا کرنا چاہے وہ کرے، اور جو اپنا حصہ رکھنا چاہے تو جب اللہ تعالیٰ ہمیں پہلا مالِ غنیمت عطا فرمائے گا اس سے ہم اسے ادا کریں گے۔ لوگوں نے عرض کیا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر خوشدلی سے دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہمیں معلوم نہیں کہ تم میں سے کس نے اجازت دی اور کس نے نہیں، لہٰذا واپس جاؤ اور تمہارے سردار تمہاری رائے ہم تک پہنچائیں۔ لوگ واپس گئے، سرداروں نے ان سے بات کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر خبر دی کہ سب نے خوشدلی سے اجازت دے دی ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ وَزَعَمَ عُرْوَةُ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ، فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَىَّ أَصْدَقُهُ. فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ إِمَّا السَّبْىَ، وَإِمَّا الْمَالَ، وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِهِمْ ". وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْتَظَرَهُمْ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، حِينَ قَفَلَ مِنَ الطَّائِفِ، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلاَّ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ قَالُوا فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا. فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمُسْلِمِينَ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ هَؤُلاَءِ قَدْ جَاءُونَا تَائِبِينَ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ بِذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ ". فَقَالَ النَّاسُ قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّا لاَ نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ فِي ذَلِكَ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ، فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعُوا إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ ". فَرَجَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا.
It is narrated from Hadrat Marwan bin al-Hakam and Hadrat Miswar bin Makhrama (may Allah be well pleased with them both) that when the delegates of the tribe of Hawazin came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) after embracing Islam, they appealed to him to return their property and captives. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'The most beloved speech to me is the truthful one. Choose one of two options: either the captives or the wealth. I had been waiting for you.' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) had waited for them for more than ten nights after returning from Ta'if. When they realized he would only return one of the two, they said: 'We choose our captives.' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) then stood among the Muslims, praised Allah as He deserves, and stated: 'As for what follows: these brethren of yours have come repentant. I see it fitting to return their captives to them. Whoever among you wishes to do this willingly, let him do so; and whoever wishes to keep his share until we compensate him from the first spoils Allah grants us, let him do so.' The people said: 'We have willingly given them up for the sake of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him).' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'We cannot distinguish who among you has consented and who has not. Return and let your chiefs convey your decision to us.' The people returned, their chiefs spoke to them, and then came back to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) informing him that everyone had willingly consented.
حضرت مروان بن حکم اور حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ جب ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور انہوں نے درخواست کی کہ ان کے مال اور قیدی واپس کر دیے جائیں، تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے سب سے پسندیدہ بات سچی بات ہے۔ تم دونوں میں سے ایک چیز اختیار کر لو: یا تو قیدی لے لو یا مال۔ میں نے تمہارے آنے کا انتظار کیا تھا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے طائف سے واپسی کے بعد دس سے زائد راتیں ان کا انتظار فرمایا تھا۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم صرف ایک ہی چیز واپس فرمائیں گے تو انہوں نے کہا: ہم اپنے قیدی اختیار کرتے ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں میں کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی شایانِ شان حمد و ثنا بیان فرمائی، پھر ارشاد فرمایا: امّا بعد! تمہارے یہ بھائی توبہ کر کے آئے ہیں اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ان کے قیدی واپس کر دوں۔ تم میں سے جو خوشدلی سے ایسا کرنا چاہے وہ کرے، اور جو اپنا حصہ رکھنا چاہے تو جب اللہ تعالیٰ ہمیں پہلا مالِ غنیمت عطا فرمائے گا اس سے ہم اسے ادا کریں گے۔ لوگوں نے عرض کیا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر خوشدلی سے دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہمیں معلوم نہیں کہ تم میں سے کس نے اجازت دی اور کس نے نہیں، لہٰذا واپس جاؤ اور تمہارے سردار تمہاری رائے ہم تک پہنچائیں۔ لوگ واپس گئے، سرداروں نے ان سے بات کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر خبر دی کہ سب نے خوشدلی سے اجازت دے دی ہے۔