عربی (اصل)
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُوسَى، بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَطَعَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَحَرَّقَ وَلَهَا يَقُولُ حَسَّانُ وَهَانَ عَلَى سَرَاةِ بَنِي لُؤَىٍّ حَرِيقٌ بِالْبُوَيْرَةِ مُسْتَطِيرُ وَفِي ذَلِكَ نَزَلَتْ { مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا} الآيَةَ .
انگریزی ترجمہ
It is narrated on the authority of Hadrat Ibn Umar that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) caused the date-palms of Banu Nadir to be cut down and burnt. It is in this connection that Hassan (the poet) said:It was easy for the nobles of Quraish to burn Buwaira whose sparks were flying in all directions, in the same connection was revealed the Qur'anic verse:" Whatever trees you have cut down or left standing on their trunks
اردو ترجمہ
موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بنونضیر کے کھجوروں کے درخت کاٹے اور جلا دیے ۔ اسی کے بارے میں حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : "" بنو لؤی ( قریش ) کے سرداروں کے لیے بویرہ میں ہر طرف پھیلنے والی آگ کی کوئی حیثیت نہ تھی اور اسی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : "" تم نے کھجور کا جو بھی درخت کاٹا یا اسے چھوڑ دیا ۔ ۔ "" آیت کے آخر تک
