عربی (اصل)
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ قَدِمَتْ عَلَىَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ إِذْ عَاهَدَهُمْ فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدِمَتْ عَلَىَّ أُمِّي وَهْىَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُ أُمِّي قَالَ " نَعَمْ صِلِي أُمَّكِ " .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Asma' bint Hadrat Abu Bakr reported:My mother who was a polytheist came to me when he (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) entered into treaty with, the Quraish (of Mecca). I inquired from the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) saying: Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), there has come to me my mother and she is inclined; should I (in this state of her mind) show her kindness? He said: Yes, treat her kindly
اردو ترجمہ
ہشام کے ایک اور شاگرد ابو اسامہ نے اسی سند کے ساتھ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا قریش کے ساتھ معاہدے کے زمانے میں ، جب آپ نے ان سے معاہدہ صلح کیا تھا ، میری والدہ آئیں ، وہ مشرک تھیں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم !میری والدہ میرے پاس آئی ہیں اور ( مجھ سے صلہ رحمی کی ) اُمید رکھتی ہیں تو کیا میں اپنی ماں سے صلہ رحمی کروں؟آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " ہاں ، اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو ۔
