عربی (اصل)
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " دَعُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلاَفِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَىْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ ".
انگریزی ترجمہ
Isma'il bin Abi Uwais narrated to us, he said Imam Malik (upon him be mercy) narrated to me, from Abu al-Zinad, from al-A'raj, from Hadrat Abu Hurayrah (may Allah be well pleased with him), who narrated that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) declared: "As long as I leave you (without commanding or prohibiting something), leave me (i.e., do not ask unnecessary questions). For indeed, the nations before you were destroyed because of their excessive questioning and their disputes with their prophets. So when I forbid you from something, abstain from it; and when I command you with something, fulfil it to the best of your ability."
اردو ترجمہ
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جب تک میں تمہیں چھوڑے رہوں تم بھی مجھے چھوڑ دو (یعنی غیر ضروری سوالات سے بچو)، اس لیے کہ تم سے پہلے کی امتیں اپنے بکثرت سوالات اور اپنے انبیاء کے سامنے اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئیں۔ پس جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کروں تو اس سے بچو، اور جب تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو اسے جہاں تک تمہاری طاقت ہو بجا لاؤ۔"
