Hadrat Abu Hurayra (may Allah be well pleased with him) narrates that one day the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was sitting among the people when Jibril (upon him be peace) came to him and asked: What is faith? The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) declared: Faith is to believe in Allah the Exalted, His angels, the meeting with Him, His messengers, and to believe in the resurrection. He asked: What is Islam? He declared: Islam is to worship Allah the Exalted and associate nothing with Him, to establish the prayer, to pay the obligatory Zakat, and to fast in Ramadan. He asked: What is Ihsan (spiritual excellence)? He declared: That you worship Allah the Exalted as though you see Him, and if you cannot see Him, then know that He sees you. He asked: When will the Hour come? He declared: The one being asked knows no more than the one asking, but I will inform you of its signs: when the slave woman gives birth to her master, and when barefoot shepherds of camels compete in constructing tall buildings. It is among five things that none knows except Allah the Exalted. Then the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) recited: 'Indeed, Allah alone has knowledge of the Hour' (31:34) to the end of the verse. Then that person turned away. He (blessings and peace of Allah be upon him) said: Bring him back. But they could see no one. He (blessings and peace of Allah be upon him) declared: That was Jibril who came to teach the people their religion. Abu Hadrat Abdullah (Imam al-Bukhari, upon him be mercy) says: He (blessings and peace of Allah be upon him) counted all of this as part of faith.
اردو ترجمہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے سامنے تشریف فرما تھے کہ جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور عرض کیا: ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی ملاقات پر، اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان لائے۔ عرض کیا: اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے، نماز قائم کرے، فرض زکوٰۃ ادا کرے اور رمضان کے روزے رکھے۔ عرض کیا: احسان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ کہ تو اللہ تعالیٰ کی عبادت ایسے کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے، اور اگر تو اسے نہیں دیکھ سکتا تو (یہ یقین رکھ کہ) بے شک وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ عرض کیا: قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس سے پوچھا جا رہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، البتہ میں تمہیں اس کی نشانیاں بتاتا ہوں: جب لونڈی اپنے آقا کو جنے، اور جب ننگے پاؤں اونٹوں کے چرواہے اونچی عمارتیں بنانے میں فخر کریں۔ یہ پانچ چیزوں میں سے ہے جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ» (بے شک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے) آخر آیت تک۔ پھر وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا گیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے واپس لاؤ۔ لوگوں نے دیکھا تو کوئی نظر نہ آیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ جبرائیل تھے جو لوگوں کو ان کا دین سکھانے آئے تھے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب باتوں کو ایمان ہی قرار دیا ہے۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (9)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحیح بخاری
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَوْمًا بَارِزًا…
Hadrat Abu Hurayra (may Allah be well pleased with him) narrates that one day the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was sitting among the people when Jibril (upon him be peace) came to him and asked: What is faith? The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) declared: Faith is to believe in Allah the Exalted, His angels, the meeting with Him, His messengers, and to believe in the resurrection. He asked: What is Islam? He declared: Islam is to worship Allah the Exalted and associate nothing with Him, to establish the prayer, to pay the obligatory Zakat, and to fast in Ramadan. He asked: What is Ihsan (spiritual excellence)? He declared: That you worship Allah the Exalted as though you see Him, and if you cannot see Him, then know that He sees you. He asked: When will the Hour come? He declared: The one being asked knows no more than the one asking, but I will inform you of its signs: when the slave woman gives birth to her master, and when barefoot shepherds of camels compete in constructing tall buildings. It is among five things that none knows except Allah the Exalted. Then the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) recited: 'Indeed, Allah alone has knowledge of the Hour' (31:34) to the end of the verse. Then that person turned away. He (blessings and peace of Allah be upon him) said: Bring him back. But they could see no one. He (blessings and peace of Allah be upon him) declared: That was Jibril who came to teach the people their religion. Abu Hadrat Abdullah (Imam al-Bukhari, upon him be mercy) says: He (blessings and peace of Allah be upon him) counted all of this as part of faith.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے سامنے تشریف فرما تھے کہ جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور عرض کیا: ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی ملاقات پر، اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان لائے۔ عرض کیا: اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے، نماز قائم کرے، فرض زکوٰۃ ادا کرے اور رمضان کے روزے رکھے۔ عرض کیا: احسان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ کہ تو اللہ تعالیٰ کی عبادت ایسے کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے، اور اگر تو اسے نہیں دیکھ سکتا تو (یہ یقین رکھ کہ) بے شک وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ عرض کیا: قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس سے پوچھا جا رہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، البتہ میں تمہیں اس کی نشانیاں بتاتا ہوں: جب لونڈی اپنے آقا کو جنے، اور جب ننگے پاؤں اونٹوں کے چرواہے اونچی عمارتیں بنانے میں فخر کریں۔ یہ پانچ چیزوں میں سے ہے جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ» (بے شک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے) آخر آیت تک۔ پھر وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا گیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے واپس لاؤ۔ لوگوں نے دیکھا تو کوئی نظر نہ آیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ جبرائیل تھے جو لوگوں کو ان کا دین سکھانے آئے تھے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب باتوں کو ایمان ہی قرار دیا ہے۔
5 صحيح حديث أبي هُرَيْرَةَ قال كان النبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بارزًا يومًا للناسِ فأَتاه رجلٌ فقال: ما الإيمان قال: الإيمان أن تؤمنَ بالله وملائكتِهِ وبلقائِهِ وبرسلِه…