عربی (اصل)
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ، وَكَانَ يَقْسِمُ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا، غَيْرَ أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ وَهَبَتْ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا، لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَبْتَغِي بِذَلِكَ رِضَا رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
انگریزی ترجمہ
Narrated to us by Hibban bin Musa, Hadrat Abdullah (bin al-Mubarak) informed us, Yunus informed us, from al-Zuhri, from Urwah, that Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha Siddiqah (may Allah be well pleased with her) stated, 'When the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) intended to travel, he would draw lots among his blessed wives. Whichever one's lot was drawn, he would take her with him. He would allocate a day and a night for each of them. However, Umm al-Mu'minin Hadrat Sawdah bint Zam'ah (may Allah be well pleased with her) gifted her day and night to Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha Siddiqah (may Allah be well pleased with her), the wife of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), and thereby she sought the pleasure of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him).'
اردو ترجمہ
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، ہم کو عبداللہ (بن مبارک) نے خبر دی، ہم کو یونس نے خبر دی، زہری سے، عروہ سے، حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی ازواج مطہرات کے درمیان قرعہ اندازی فرماتے۔ جس کا قرعہ نکل آتا انہیں ساتھ لے جاتے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہر ایک کے لیے ایک دن اور ایک رات کی باری مقرر فرماتے تھے، البتہ حضرت اُمّ المؤمنین سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے دن اور رات کی باری حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، زوجہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ہبہ فرما دی تھی، اور اس سے ان کا مقصد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی رضا حاصل کرنا تھا۔
