عربی (اصل)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ ـ رضى الله عنها ـ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا، أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً وَلَمْ تَسْتَأْذِنِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُهَا الَّذِي يَدُورُ عَلَيْهَا فِيهِ قَالَتْ أَشَعَرْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنِّي أَعْتَقْتُ وَلِيدَتِي قَالَ " أَوَفَعَلْتِ ". قَالَتْ نَعَمْ. قَالَ " أَمَا إِنَّكِ لَوْ أَعْطَيْتِيهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لأَجْرِكِ ". وَقَالَ بَكْرُ بْنُ مُضَرَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ كُرَيْبٍ إِنَّ مَيْمُونَةَ أَعْتَقَتْ
انگریزی ترجمہ
Narrated to us by Yahya bin Bukair, from Laith, from Yazid, from Bukair, from Kuraib, the freed slave of Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both), that Umm al-Mu'minin Hadrat Maimunah bint al-Harith (may Allah be well pleased with her) informed him that she manumitted a slave-girl without seeking the permission of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). When the day came on which it was his turn to be with her, she submitted, 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Did you know that I have freed my slave-girl?' He (blessings and peace of Allah be upon him) declared, 'Indeed, you did that?' She submitted, 'Yes.' He declared, 'Had you given her to your maternal relatives, it would have brought you greater reward.' And Bakr bin Mudar narrated from Amr, from Bukair, from Kuraib that Hadrat Maimunah (may Allah be well pleased with her) freed (a slave-girl, to the end of the hadith).
اردو ترجمہ
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، لیث سے، یزید سے، بکیر سے، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب سے کہ حضرت اُمّ المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے ایک لونڈی نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت لیے بغیر آزاد کر دی۔ پھر جب وہ دن آیا جس میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی باری ان کے پاس آنے کی تھی، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو معلوم ہوا کہ میں نے اپنی لونڈی آزاد کر دی ہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اچھا تم نے ایسا کیا؟ عرض کیا: ہاں۔ فرمایا: اگر تم اسے اپنے ننھیال والوں کو دے دیتیں تو تمہیں اس سے زیادہ ثواب ملتا۔ اور بکر بن مضر نے عمرو سے، بکیر سے، کریب سے روایت کیا کہ حضرت اُمّ المؤمنین میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آزاد کیا (اخیر تک)۔
