عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَفَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَجَعَلُوا يَسْأَلُونَهُ، فَقَالَ رَجُلٌ لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ. قَالَ " اذْبَحْ وَلاَ حَرَجَ ". فَجَاءَ آخَرُ فَقَالَ لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. قَالَ " ارْمِ وَلاَ حَرَجَ ". فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَىْءٍ قُدِّمَ وَلاَ أُخِّرَ إِلاَّ قَالَ افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ.
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat 'Abdullah bin 'Amr (may Allah be well pleased with them both) that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stopped (on his mount) during the Farewell Hajj and the people began asking him questions. A man submitted, 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! I did not realise and got my head shaved before slaughtering.' He stated, 'Slaughter now and there is no harm.' Then another person came and submitted, 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! I did not realise and slaughtered before doing the Rami (stoning).' He stated, 'Do the Rami now and there is no harm.' So on that day, whatever he was asked about doing something before or after (its prescribed time), he stated, 'Do it now and there is no harm.'
اردو ترجمہ
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عیسیٰ بن حضرت طلحہ نے، انہیں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر (اپنی سواری پر) کھڑے ہوئے تھے اور لوگ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے مسائل معلوم کیے جا رہے تھے۔ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے معلوم نہ تھا اور میں نے قربانی کرنے سے پہلے ہی سر منڈا لیا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اب قربانی کر لو کوئی حرج نہیں، پھر دوسرا شخص تشریف لایا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے خیال نہ رہا اور رمی جمار سے پہلے ہی میں نے قربانی کر دی، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اب رمی کر لو کوئی حرج نہیں، اس دن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے جس چیز کے آگے پیچھے کرنے کے متعلق سوال ہوا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے یہی ارشاد فرمایا: اب کر لو کوئی حرج نہیں۔
