عربی (اصل)
822 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى لِلنَّاسِ يَسْأَلُونَهُ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، فَقَالَ: اذْبَحْ وَلاَ حَرَجَ فَجَاءَ آخَرُ، فَقَالَ: لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ: ارْمِ وَلاَ حَرَجَ فَمَا سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلاَ أُخِّرَ إِلاَّ قَالَ: افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ
انگریزی ترجمہ
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As (may Allah be pleased with them both): The Messenger of Allah (peace be upon him) stopped at Mina during the Farewell Pilgrimage for the people to ask him questions. A man came and said: "I did not realize (the correct order), so I shaved my head before slaughtering." He said: "Slaughter, and there is no harm." Another man came and said: "I did not realize, so I slaughtered before stoning." He said: "Stone, and there is no harm." Whatever the Prophet (peace be upon him) was asked about anything done before or after its proper time, he said: "Do it, and there is no harm."
اردو ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حجۃ الوداع میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلملوگوں کے مسائل دریافت کرنے کی وجہ سے منیٰ میں ٹھہر گئے، تو ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ میں نے بے خبری میں ذبح کرنے سے پہلے سر منڈا لیا۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”(اب) ذبح کر لے، اور کچھ حرج نہیں۔“پھر دوسرا آدمی آیا، اس نے کہا کہ میں نے بے خبری میں رمی کرنے سے پہلے قربانی کر لی۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”(اب) رمی کر لے۔ (اور پہلے کر دینے سے) کچھ حرج نہیں۔“(ابن عمرو کہتے ہیں اس دن) آپصلی اللہ علیہ وسلمسے جس چیز کا بھی سوال ہوا، جو کسی نے آگے اور پیچھے کر لی تھی، تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے یہی فرمایا کہ”(اب) کر لے اور کچھ حرج نہیں۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 822]
