حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَأَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ فَأَصَابُوا إِبِلاً وَغَنَمًا. قَالَ وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي أُخْرَيَاتِ الْقَوْمِ فَعَجِلُوا وَذَبَحُوا وَنَصَبُوا الْقُدُورَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْقُدُورِ فَأُكْفِئَتْ، ثُمَّ قَسَمَ فَعَدَلَ عَشْرَةً مِنَ الْغَنَمِ بِبَعِيرٍ فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ، فَطَلَبُوهُ فَأَعْيَاهُمْ، وَكَانَ فِي الْقَوْمِ خَيْلٌ يَسِيرَةٌ فَأَهْوَى رَجُلٌ مِنْهُمْ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ " إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا ". فَقَالَ جَدِّي إِنَّا نَرْجُو ـ أَوْ نَخَافُ ـ الْعَدُوَّ غَدًا، وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ. قَالَ " مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَكُلُوهُ، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ ".
English Translation
It is narrated by Abaya bin Rifa'a, the grandson of Hadrat Rafi' bin Khadij (may Allah be well pleased with him), who said: My grandfather said: We were with the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) at Dhul-Hulaifa when the people became hungry and obtained camels and sheep (from the spoils). The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was in the rear of the army. The people hastened and slaughtered the animals (before distribution) and set up their cooking pots. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) gave the order and the pots were overturned. He then distributed the spoils, equating ten sheep to one camel. One camel escaped and the people chased it but could not catch it, as there were only a few horses among them. A man shot an arrow at it and stopped it. He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'These animals have wild tendencies like wild beasts. Whatever escapes from your control, deal with it in this manner.' My grandfather then submitted: 'We fear that we may encounter the enemy tomorrow and we have no knives. May we slaughter with reeds?' He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Whatever causes the blood to flow, and the Name of Allah is mentioned over it, eat of it - except teeth and fingernails. I shall tell you why: teeth are bones, and fingernails are the knives of the Ethiopians.'
Urdu Translation
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے عبایہ بن رفاعہ سے روایت ہے کہ میرے دادا نے فرمایا: ہم نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ذوالحلیفہ کے مقام پر تھے۔ لوگوں کو بھوک لگی اور (غنیمت میں) اونٹ اور بکریاں ملیں۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم لشکر کے پچھلے حصے میں تھے۔ لوگوں نے جلدی کی اور (تقسیم سے پہلے) ذبح کر کے ہانڈیاں چڑھا دیں۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا تو ہانڈیاں اوندھا دی گئیں۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے تقسیم فرمائی اور دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر رکھا۔ ایک اونٹ بھاگ گیا اور لوگوں نے اسے پکڑنے کی کوشش کی مگر وہ ان سے نہ آیا۔ قوم کے پاس گھوڑے بھی کم تھے۔ ایک شخص نے تیر مار کر اسے روک لیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان جانوروں میں بھی جنگلی جانوروں جیسی وحشت ہوتی ہے۔ جو تمہارے قابو سے نکل جائے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو۔ پھر میرے دادا نے عرض کیا: ہمیں اندیشہ ہے کہ کل دشمن سے سامنا ہو اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں۔ کیا ہم بانس سے ذبح کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو چیز خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ، سوائے دانت اور ناخن کے۔ اس کی وجہ بتاتا ہوں: دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَأَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ فَأَصَابُوا إِبِلاً وَغَنَمًا. قَالَ وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي أُخْرَيَاتِ الْقَوْمِ فَعَجِلُوا وَذَبَحُوا وَنَصَبُوا الْقُدُورَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْقُدُورِ فَأُكْفِئَتْ، ثُمَّ قَسَمَ فَعَدَلَ عَشْرَةً مِنَ الْغَنَمِ بِبَعِيرٍ فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ، فَطَلَبُوهُ فَأَعْيَاهُمْ، وَكَانَ فِي الْقَوْمِ خَيْلٌ يَسِيرَةٌ فَأَهْوَى رَجُلٌ مِنْهُمْ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ " إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا ". فَقَالَ جَدِّي إِنَّا نَرْجُو ـ أَوْ نَخَافُ ـ الْعَدُوَّ غَدًا، وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ. قَالَ " مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَكُلُوهُ، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ ".
It is narrated by Abaya bin Rifa'a, the grandson of Hadrat Rafi' bin Khadij (may Allah be well pleased with him), who said: My grandfather said: We were with the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) at Dhul-Hulaifa when the people became hungry and obtained camels and sheep (from the spoils). The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was in the rear of the army. The people hastened and slaughtered the animals (before distribution) and set up their cooking pots. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) gave the order and the pots were overturned. He then distributed the spoils, equating ten sheep to one camel. One camel escaped and the people chased it but could not catch it, as there were only a few horses among them. A man shot an arrow at it and stopped it. He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'These animals have wild tendencies like wild beasts. Whatever escapes from your control, deal with it in this manner.' My grandfather then submitted: 'We fear that we may encounter the enemy tomorrow and we have no knives. May we slaughter with reeds?' He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Whatever causes the blood to flow, and the Name of Allah is mentioned over it, eat of it - except teeth and fingernails. I shall tell you why: teeth are bones, and fingernails are the knives of the Ethiopians.'
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے عبایہ بن رفاعہ سے روایت ہے کہ میرے دادا نے فرمایا: ہم نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ذوالحلیفہ کے مقام پر تھے۔ لوگوں کو بھوک لگی اور (غنیمت میں) اونٹ اور بکریاں ملیں۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم لشکر کے پچھلے حصے میں تھے۔ لوگوں نے جلدی کی اور (تقسیم سے پہلے) ذبح کر کے ہانڈیاں چڑھا دیں۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا تو ہانڈیاں اوندھا دی گئیں۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے تقسیم فرمائی اور دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر رکھا۔ ایک اونٹ بھاگ گیا اور لوگوں نے اسے پکڑنے کی کوشش کی مگر وہ ان سے نہ آیا۔ قوم کے پاس گھوڑے بھی کم تھے۔ ایک شخص نے تیر مار کر اسے روک لیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان جانوروں میں بھی جنگلی جانوروں جیسی وحشت ہوتی ہے۔ جو تمہارے قابو سے نکل جائے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو۔ پھر میرے دادا نے عرض کیا: ہمیں اندیشہ ہے کہ کل دشمن سے سامنا ہو اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں۔ کیا ہم بانس سے ذبح کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو چیز خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ، سوائے دانت اور ناخن کے۔ اس کی وجہ بتاتا ہوں: دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔