صحيح البخاريOneness, Uniqueness of Allah (Tawheed)#7448صحيح
العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ، قَالَ كَانَ ابْنٌ لِبَعْضِ بَنَاتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَقْضِي، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَهَا فَأَرْسَلَ " إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلٌّ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ ". فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ فَأَقْسَمَتْ عَلَيْهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقُمْتُ مَعَهُ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ وَعُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، فَلَمَّا دَخَلْنَا نَاوَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصَّبِيَّ وَنَفْسُهُ تَقَلْقَلُ فِي صَدْرِهِ ـ حَسِبْتُهُ قَالَ ـ كَأَنَّهَا شَنَّةٌ، فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ أَتَبْكِي فَقَالَ " إِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ ".
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Usama that a son of one of the daughters of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was dying, so she sent a person to call the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). He sent (her a message), "What ever Allah takes is for Him, and whatever He gives is for Him, and everything has a limited fixed term (in this world) so she should be patient and hope for Allah's reward." She then sent for him again, swearing that he should come. Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) got up, and so did Hadrat Mu`adh bin Jabal, Ubai bin Ka`b and 'Ubada bin As-Samit. When he entered (the house), they gave the child to Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) while its breath was disturbed in his chest. (The sub-narrator said: I think he said, "...as if it was a water skin.") Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) started weeping whereupon Sa`d bin 'Ubada said, "Do you weep?" the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "Allah is merciful only to those of His slaves who are merciful (to others)
الترجمة الأردية
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم احول نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نہدی نے اور ان سے اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ایک صاحبزادی ( زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) کا لڑکا جاں کنی کے عالم میں تھا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو بلا بھیجا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں کہلایا کہ اللہ ہی کا وہ ہے جو وہ لیتا ہے اور وہ بھی جسے وہ دیتا ہے اور سب کے لیے ایک مدت مقرر ہے، پس صبر کرو اور اسے ثواب کا کام سمجھو۔ لیکن انہوں نے پھر دوبارہ بلا بھیجا اور قسم دلائی۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اٹھے اور میں بھی آپ کے ساتھ چلا۔ حضرت معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی ساتھ تھے۔ جب ہم صاحبزادی کے گھر میں داخل ہوئے تو لوگوں نے بچے کو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو گود میں دے دیا۔ اس وقت بچہ کا سانس اکھڑ رہا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسا پرانی مشک۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم یہ دیکھ کر رو دئیے تو سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا، آپ روتے ہیں! نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں میں رحم کرنے والوں پر ہی رحم کھاتا ہے۔
وعن أبي زيد أسامة بن زيد بن حارثة مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم وحبه وابن حبه، رضي الله عنهما، قال: أرسلت بنت النبي صلى الله عليه وسلم : إن ابني قد احتضر فاشهدنا، فأرسل يقر…
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ، قَالَ كَانَ ابْنٌ لِبَعْضِ بَنَاتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَقْضِي، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَهَا فَأَرْسَلَ " إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلٌّ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ ". فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ فَأَقْسَمَتْ عَلَيْهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقُمْتُ مَعَهُ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ وَعُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، فَلَمَّا دَخَلْنَا نَاوَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصَّبِيَّ وَنَفْسُهُ تَقَلْقَلُ فِي صَدْرِهِ ـ حَسِبْتُهُ قَالَ ـ كَأَنَّهَا شَنَّةٌ، فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ أَتَبْكِي فَقَالَ " إِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ ".
It is narrated by Hadrat Usama that a son of one of the daughters of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was dying, so she sent a person to call the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). He sent (her a message), "What ever Allah takes is for Him, and whatever He gives is for Him, and everything has a limited fixed term (in this world) so she should be patient and hope for Allah's reward." She then sent for him again, swearing that he should come. Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) got up, and so did Hadrat Mu`adh bin Jabal, Ubai bin Ka`b and 'Ubada bin As-Samit. When he entered (the house), they gave the child to Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) while its breath was disturbed in his chest. (The sub-narrator said: I think he said, "...as if it was a water skin.") Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) started weeping whereupon Sa`d bin 'Ubada said, "Do you weep?" the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "Allah is merciful only to those of His slaves who are merciful (to others)
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم احول نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نہدی نے اور ان سے اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ایک صاحبزادی ( زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) کا لڑکا جاں کنی کے عالم میں تھا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو بلا بھیجا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں کہلایا کہ اللہ ہی کا وہ ہے جو وہ لیتا ہے اور وہ بھی جسے وہ دیتا ہے اور سب کے لیے ایک مدت مقرر ہے، پس صبر کرو اور اسے ثواب کا کام سمجھو۔ لیکن انہوں نے پھر دوبارہ بلا بھیجا اور قسم دلائی۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اٹھے اور میں بھی آپ کے ساتھ چلا۔ حضرت معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی ساتھ تھے۔ جب ہم صاحبزادی کے گھر میں داخل ہوئے تو لوگوں نے بچے کو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو گود میں دے دیا۔ اس وقت بچہ کا سانس اکھڑ رہا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسا پرانی مشک۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم یہ دیکھ کر رو دئیے تو سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا، آپ روتے ہیں! نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں میں رحم کرنے والوں پر ہی رحم کھاتا ہے۔