العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ثَوْرٌ، قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ، مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ افْتَتَحْنَا خَيْبَرَ، وَلَمْ نَغْنَمْ ذَهَبًا وَلاَ فِضَّةً، إِنَّمَا غَنِمْنَا الْبَقَرَ وَالإِبِلَ وَالْمَتَاعَ وَالْحَوَائِطَ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى وَادِي الْقُرَى، وَمَعَهُ عَبْدٌ لَهُ يُقَالُ لَهُ مِدْعَمٌ، أَهْدَاهُ لَهُ أَحَدُ بَنِي الضِّبَابِ، فَبَيْنَمَا هُوَ يَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ جَاءَهُ سَهْمٌ عَائِرٌ حَتَّى أَصَابَ ذَلِكَ الْعَبْدَ، فَقَالَ النَّاسُ هَنِيئًا لَهُ الشَّهَادَةُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتِي أَصَابَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ تُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا ". فَجَاءَ رَجُلٌ حِينَ سَمِعَ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِشِرَاكٍ أَوْ بِشِرَاكَيْنِ، فَقَالَ هَذَا شَىْءٌ كُنْتُ أَصَبْتُهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " شِرَاكٌ أَوْ شِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ ".
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Hurayrah (may Allah be well pleased with him) states, 'When we conquered Khaybar, we gained neither gold nor silver as spoils, but we gained cattle, camels, goods, and gardens. Then we returned from Khaybar toward Wadi al-Qura. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) had a slave with him who was gifted by the tribe of Banu Dibab (or Huqaq). He was placing the saddle on the mount of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) when an arrow struck and killed him. People said: May martyrdom be blessed for him! The Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) declared: By no means! By Him in Whose hand is my soul! The cloak he took from the spoils before the khums (one-fifth) was extracted is now ablaze upon him as fire.'
الترجمة الأردية
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: جب ہم نے خیبر فتح کیا تو ہمیں غنیمت میں سونا چاندی نہیں ملا بلکہ گائیں، اونٹ، سامان اور باغات ملے۔ پھر ہم خیبر سے وادی القریٰ کی طرف لوٹے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ان کے غلام تھے جو انہیں بنو ضباب (یا حقاق) نے ہدیہ کیا تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی سواری کا کجاوہ رکھ رہے تھے کہ ایک تیر آیا اور انہیں لگا (اور وہ شہید ہو گئے)۔ لوگوں نے کہا: انہیں شہادت مبارک ہو! نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہرگز نہیں! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو چادر انہوں نے غنیمت سے خمس نکالنے سے پہلے لی تھی وہ ان پر آگ بن کر بھڑک رہی ہے۔
