العربية (الأصل)
حَدَّثَنِي عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ وَقَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى قَلِيبِ بَدْرٍ فَقَالَ {هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ثُمَّ قَالَ إِنَّهُمُ الآنَ يَسْمَعُونَ مَا أَقُولُ} فَذُكِرَ لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ إِنَّمَا قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهُمُ الآنَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّ الَّذِي كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ هُوَ الْحَقُّ ". ثُمَّ قَرَأَتْ {إِنَّكَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتَى} حَتَّى قَرَأَتِ الآيَةَ.
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) states that the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stood at the well of Badr and declared, 'Have you found what your Lord promised you to be true?' Then he stated, 'Indeed, they now hear what I am saying.' When this was mentioned to Umm al-Mu'minin Hadrat Aishah (may Allah be well pleased with her), she stated, 'The Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) actually said: They now know that what I used to tell them was the truth.' Then she recited: 'Indeed, you cannot make the dead hear' (al-Naml 27:80) — and she recited the entire verse.
الترجمة الأردية
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بدر کے کنویں پر کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا: کیا تم نے اپنے رب کا وعدہ سچا پایا؟ پھر ارشاد فرمایا: بے شک وہ اب میری بات سن رہے ہیں جو میں فرما رہا ہوں۔ جب حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے یہ بات ذکر کی گئی تو انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے تو یہ ارشاد فرمایا تھا: وہ اب جان گئے ہیں کہ جو میں ان سے فرماتا تھا وہ حق تھا۔ پھر اُمّ المؤمنین نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى» یہاں تک کہ پوری آیت تلاوت فرمائی۔
