العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، أَنَّ أَنَسًا، حَدَّثَهُمْ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَنْ يَنْظُرُ مَا صَنَعَ أَبُو جَهْلٍ " فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ حَتَّى بَرَدَ قَالَ آأَنْتَ أَبُو جَهْلٍ قَالَ فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ. قَالَ وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ أَوْ رَجُلٍ قَتَلَهُ قَوْمُهُ? قَالَ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ أَنْتَ أَبُو جَهْلٍ?
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) narrates that the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) declared (on the day of Badr), 'Who will go and see what has happened to Abu Jahl?' So Hadrat Ibn Mas'ud (may Allah be well pleased with him) went and found that the two sons of Afra' had struck him until he was lifeless. Hadrat Ibn Mas'ud (may Allah be well pleased with him) took hold of his beard and asked, 'Are you Abu Jahl?' He said, 'Can there be anyone greater than a man whom you have slain?' or 'a man whom his own people have slain?' In the narration of Ahmad bin Yunus: 'Are you Abu Jahl?'
الترجمة الأردية
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے (بدر کے دن) ارشاد فرمایا: کون جا کر دیکھے گا کہ حضرت ابوجہل کا کیا حال ہوا؟ چنانچہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لے گئے اور انہوں نے دیکھا کہ عفراء کے دونوں بیٹوں نے اسے اتنا مارا تھا کہ وہ بالکل ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (اس کی داڑھی پکڑ کر) فرمایا: کیا تو حضرت ابوجہل ہے؟ اس نے کہا: کیا اس شخص سے بالاتر کوئی ہے جسے تم نے قتل کیا ہو؟ یا اس شخص سے بالاتر کوئی ہے جسے اس کی قوم نے قتل کیا ہو؟ احمد بن یونس کی روایت میں ہے: کیا تو حضرت ابوجہل ہے؟
