العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأُوَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ، أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهُ النَّاسُ مُقْبِلاً مِنْ حُنَيْنٍ عَلِقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الأَعْرَابُ يَسْأَلُونَهُ حَتَّى اضْطَرُّوهُ إِلَى سَمُرَةٍ، فَخَطِفَتْ رِدَاءَهُ، فَوَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَعْطُونِي رِدَائِي، فَلَوْ كَانَ عَدَدُ هَذِهِ الْعِضَاهِ نَعَمًا لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ، ثُمَّ لاَ تَجِدُونِي بَخِيلاً وَلاَ كَذُوبًا وَلاَ جَبَانًا ".
الترجمة الإنجليزية
'Abd al-'Aziz ibn Hadrat 'Abdullah al-Uwaysi narrated to us, Ibrahim ibn Sa'd narrated to us, from Salih, from Ibn Shihab, who said: 'Umar ibn Muhammad ibn Jubayr ibn Mut'im informed me that Muhammad ibn Jubayr said: Hadrat Jubayr ibn Mut'im (may Allah be well pleased with him) informed me that while he was with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and the people, returning from Hunayn, the Bedouins clung to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) asking him, until they pressed him against an acacia tree and his cloak was snatched away. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) halted and stated: 'Give me back my cloak! Had I cattle equal in number to these thorny trees, I would have distributed them all among you, and then you would not find me miserly, nor a liar, nor a coward.'
الترجمة الأردية
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ الاویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، صالح سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے کہا مجھے عمر بن محمد بن جبیر بن مطعم نے خبر دی کہ محمد بن جبیر نے فرمایا: مجھے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی کہ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اور لوگ بھی ساتھ تھے اور حنین سے واپس آ رہے تھے، تو بدو لوگ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے لپٹ کر مانگنے لگے یہاں تک کہ آپ کو ایک ببول کے درخت کے پاس مجبور کر دیا اور آپ کی چادر مبارک اٹکا لی۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم رُکے اور ارشاد فرمایا: میری چادر واپس دو! اگر ان جھاڑیوں کے برابر بھی مویشی ہوتے تو میں سب تمہارے درمیان تقسیم کر دیتا، پھر تم مجھے نہ بخیل پاؤ گے، نہ جھوٹا، نہ بزدل۔
