Abu al-Yaman narrated to us, Shu'ayb informed us, from al-Zuhri (upon him be mercy), he said: Sa'id bin al-Musayyab and Abu Salama bin Abd al-Rahman (upon them be mercy) informed me that Hadrat Abu Hurayra (may Allah be well pleased with him) stated: When Allah Almighty revealed the verse {And warn your closest kindred}, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stood up and declared: O assembly of Quraysh — or a similar expression — ransom yourselves (from the punishment of Allah), I cannot avail you anything against Allah the Exalted. O Banu Abd Manaf, I cannot avail you anything against Allah the Exalted. O Abbas bin Abd al-Muttalib, I cannot avail you anything against Allah the Exalted. And O Hadrat Safiyya, paternal aunt of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), I cannot avail you anything against Allah the Exalted. And O Hadrat Fatima (upon her be peace), daughter of Muhammad, ask of my wealth whatever you wish, I cannot avail you anything against Allah the Exalted. Asbagh corroborated this from Yunus, from Ibn Shihab. And Abu al-Zinad narrated from al-A'raj, from Hadrat Abu Hurayra (may Allah be well pleased with him).
الترجمة الأردية
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا، ہمیں شعیب نے خبر دی، زہری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے، انہوں نے فرمایا: مجھے سعید بن المسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما نے خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: جب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا: اے گروہِ قریش! یا اسی طرح کا کوئی کلمہ ارشاد فرمایا، اپنے آپ کو (عذابِ الٰہی سے) خرید لو، میں اللہ تعالیٰ (کے عذاب) سے تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا۔ اے بنو عبد مناف! میں اللہ تعالیٰ (کے عذاب) سے تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا۔ اے عباس بن عبدالمطلب! میں اللہ تعالیٰ (کے عذاب) سے تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا۔ اور اے صفیہ! رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی پھوپھی! میں اللہ تعالیٰ (کے عذاب) سے تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا۔ اور اے حضرت فاطمہ علیہا السلام بنتِ محمد! میرے مال سے جو چاہو مانگ لو، میں اللہ تعالیٰ (کے عذاب) سے تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا۔ اس کی متابعت اصبغ نے یونس سے، ابن شہاب سے کی ہے اور ابو الزناد نے اعرج سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (16)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ} قَالَ " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ـ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا ـ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ، لاَ أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ الل…
صحيح مسلم
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ { وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ} " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ لاَ أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا يَا بَن…
صحيح مسلم
لَمَّا نَزَلَتْ { وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ} قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الصَّفَا فَقَالَ " يَا فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَا بَنِي عَبْدِ الْ…
سنن النسائي
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ} قَالَ " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ لاَ أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا يَ…
سنن النسائي
قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ} فَقَالَ " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ لاَ أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا …
سنن النسائي
لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ} قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا فَاطِمَةُ ابْنَةَ مُحَمَّدٍ يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِب…
Abu al-Yaman narrated to us, Shu'ayb informed us, from al-Zuhri (upon him be mercy), he said: Sa'id bin al-Musayyab and Abu Salama bin Abd al-Rahman (upon them be mercy) informed me that Hadrat Abu Hurayra (may Allah be well pleased with him) stated: When Allah Almighty revealed the verse {And warn your closest kindred}, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stood up and declared: O assembly of Quraysh — or a similar expression — ransom yourselves (from the punishment of Allah), I cannot avail you anything against Allah the Exalted. O Banu Abd Manaf, I cannot avail you anything against Allah the Exalted. O Abbas bin Abd al-Muttalib, I cannot avail you anything against Allah the Exalted. And O Hadrat Safiyya, paternal aunt of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), I cannot avail you anything against Allah the Exalted. And O Hadrat Fatima (upon her be peace), daughter of Muhammad, ask of my wealth whatever you wish, I cannot avail you anything against Allah the Exalted. Asbagh corroborated this from Yunus, from Ibn Shihab. And Abu al-Zinad narrated from al-A'raj, from Hadrat Abu Hurayra (may Allah be well pleased with him).
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا، ہمیں شعیب نے خبر دی، زہری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے، انہوں نے فرمایا: مجھے سعید بن المسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما نے خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: جب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا: اے گروہِ قریش! یا اسی طرح کا کوئی کلمہ ارشاد فرمایا، اپنے آپ کو (عذابِ الٰہی سے) خرید لو، میں اللہ تعالیٰ (کے عذاب) سے تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا۔ اے بنو عبد مناف! میں اللہ تعالیٰ (کے عذاب) سے تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا۔ اے عباس بن عبدالمطلب! میں اللہ تعالیٰ (کے عذاب) سے تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا۔ اور اے صفیہ! رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی پھوپھی! میں اللہ تعالیٰ (کے عذاب) سے تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا۔ اور اے حضرت فاطمہ علیہا السلام بنتِ محمد! میرے مال سے جو چاہو مانگ لو، میں اللہ تعالیٰ (کے عذاب) سے تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا۔ اس کی متابعت اصبغ نے یونس سے، ابن شہاب سے کی ہے اور ابو الزناد نے اعرج سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے۔
قام النَّبِيّ صَلَّى الله عَلَيه وَسَلَّم حين أنزل عليه وأنذر عشيرتك الأقربين فقال اشتروا أنفسكم من الله لا أغني عنكم من الله شيئا يا بني عَبد مناف لا أغني عنكم من الله شيئا يا صفية بنت عَبد المطلب لا أغني عنك من الله شي…
لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم وأنذر عشيرتك الأقربين قال يا بني هاشم يا نبي عَبد المطلب يا فاطمة بنت مُحَمد يا صفية عمه النَّبِيّ يا عباس لا أملك لكم من الله شيئا سلوني بعد ما شئتم من مالي…