Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them) narrated: The delegation of the tribe of Abdul Qais came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and submitted, 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! We are from the tribe of Rabi'a, and the disbelievers of the tribe of Mudar stand between us and you, so we can only reach you during the Sacred Months. Please command us with something we may act upon and also invite those we have left behind to it.' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'I command you with four things and forbid you from four things: faith in Allah and testifying that there is no deity except Allah' — and he (blessings and peace of Allah be upon him) gestured with his hand thus — 'establishing prayer, paying the Zakat, and giving one-fifth of the war booty. And I forbid you from (using) the gourd vessel, the green-glazed jar (Hantam), the hollowed tree-trunk vessel (Naqir), and the pitch-coated vessel (Muzaffat).' Sulaiman and Abu al-Nu'man narrated from Hammad: 'Faith in Allah means testifying that there is no deity except Allah.'
الترجمة الأردية
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوجمرہ نصر بن عمران ضبعی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے سنا، آپ نے فرمایا کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم قبیلہ ربیعہ کی ایک شاخ ہیں اور قبیلہ مضر کے کافر ہمارے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان پڑتے ہیں۔ اس لیے ہم آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں صرف حرمت کے مہینوں ہی میں حاضر ہو سکتے ہیں (کیونکہ ان مہینوں میں لڑائیاں بند ہو جاتی ہیں اور راستے پرامن ہو جاتے ہیں)۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہمیں کچھ ایسی باتیں بتا دیجیے جس پر ہم خود بھی عمل کریں اور اپنے قبیلہ کے لوگوں سے بھی ان پر عمل کرنے کے لیے کہیں جو ہمارے ساتھ نہیں آ سکے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کی وحدانیت کی شہادت دینے کا (یہ فرماتے ہوئے) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلی سے ایک طرف اشارہ فرمایا۔ نماز قائم کرنا، پھر زکوٰۃ ادا کرنا اور مال غنیمت سے پانچواں حصہ ادا کرنے (کا حکم دیتا ہوں) اور میں تمہیں کدو کے تونبی سے اور حنتم (سبز رنگ کا چھوٹا سا مرتبان جیسا گھڑا) نقیر (کھجور کی جڑ سے کھودا ہوا ایک برتن) اور زفت لگے ہوئے برتن کے استعمال سے منع کرتا ہوں۔ سلیمان اور ابوالنعمان نے حماد کے واسطہ سے یہی روایت اس طرح بیان کی ہے: «الإيمان بالله شهادة أن لا إله إلا الله» یعنی اللہ پر ایمان لانے کا مطلب «لا إله إلا الله» کی گواہی دینا۔
Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them) narrated: The delegation of the tribe of Abdul Qais came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and submitted, 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! We are from the tribe of Rabi'a, and the disbelievers of the tribe of Mudar stand between us and you, so we can only reach you during the Sacred Months. Please command us with something we may act upon and also invite those we have left behind to it.' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'I command you with four things and forbid you from four things: faith in Allah and testifying that there is no deity except Allah' — and he (blessings and peace of Allah be upon him) gestured with his hand thus — 'establishing prayer, paying the Zakat, and giving one-fifth of the war booty. And I forbid you from (using) the gourd vessel, the green-glazed jar (Hantam), the hollowed tree-trunk vessel (Naqir), and the pitch-coated vessel (Muzaffat).' Sulaiman and Abu al-Nu'man narrated from Hammad: 'Faith in Allah means testifying that there is no deity except Allah.'
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوجمرہ نصر بن عمران ضبعی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے سنا، آپ نے فرمایا کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم قبیلہ ربیعہ کی ایک شاخ ہیں اور قبیلہ مضر کے کافر ہمارے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان پڑتے ہیں۔ اس لیے ہم آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں صرف حرمت کے مہینوں ہی میں حاضر ہو سکتے ہیں (کیونکہ ان مہینوں میں لڑائیاں بند ہو جاتی ہیں اور راستے پرامن ہو جاتے ہیں)۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہمیں کچھ ایسی باتیں بتا دیجیے جس پر ہم خود بھی عمل کریں اور اپنے قبیلہ کے لوگوں سے بھی ان پر عمل کرنے کے لیے کہیں جو ہمارے ساتھ نہیں آ سکے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کی وحدانیت کی شہادت دینے کا (یہ فرماتے ہوئے) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلی سے ایک طرف اشارہ فرمایا۔ نماز قائم کرنا، پھر زکوٰۃ ادا کرنا اور مال غنیمت سے پانچواں حصہ ادا کرنے (کا حکم دیتا ہوں) اور میں تمہیں کدو کے تونبی سے اور حنتم (سبز رنگ کا چھوٹا سا مرتبان جیسا گھڑا) نقیر (کھجور کی جڑ سے کھودا ہوا ایک برتن) اور زفت لگے ہوئے برتن کے استعمال سے منع کرتا ہوں۔ سلیمان اور ابوالنعمان نے حماد کے واسطہ سے یہی روایت اس طرح بیان کی ہے: «الإيمان بالله شهادة أن لا إله إلا الله» یعنی اللہ پر ایمان لانے کا مطلب «لا إله إلا الله» کی گواہی دینا۔