العربية (الأصل)
حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى،وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالا: ثَنَاعَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: ثَنَاشُعْبَةُ، قَالَ: أَنِيأَبُو جَمْرَةَ، قَالَ: كَانَابْنُ عَبَّاسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُقْعِدُنِي عَلَى سَرِيرِهِ، قَالَ: إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنِ الْقَوْمُ أَوْ مَنِ الْوَفْدُ؟ قَالُوا: مِنْ رَبِيعَةَ، قَالَ: فَمَرْحَبًا بِالْوَفْدِ أَوْ بِالْقَوْمِ غَيْرَ خَزَايَا وَلا نَادِمِينَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لا نَسْتَطِيعُ إِتْيَانَكَ إِلا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، وَإِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ، فَأَخْبِرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ نُخْبِرْ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا وَنَدْخُلْ بِهِ الْجَنَّةَ، قَالَ: وَسَأَلُوهُ عَنِ الأَشْرِبَةِ، قَالَ:" فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: قَالَ: أَمَرَهُمْ بِالإِيمَانِ بِاللَّهِ وَحْدَهُ، قَالَ:تَدْرُونَ مَا الإِيمَانِ بِاللَّهِ وَحْدَهُ؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: شَهَادَةُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامُ الصَّلاةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَصِيَامُ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ الْمَغْنَمِ الْخُمْسَ، وَنَهَاهُمْ عَنِ الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ، وَرُبَّمَا قَالَ: وَالْمُقَيَّرِ وَالْمُزَفَّتِ، وَقَالَ: احْفَظُوهُنَّ وَأَخْبِرُوا بِهِ مَنْ وَرَاءَكُمْ".
الترجمة الإنجليزية
Abu Jamrah narrated: Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) used to seat me on his bed. He said: When the delegation of Abd al-Qays came to the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him), he asked: "Who are these people?" or "Who is this delegation?" They said: We are from Rabi'ah. He said: "Welcome to the delegation" — or "the people" — "neither disgraced nor regretful." They said: O Messenger of Allah, we cannot come to you except during the sacred month, for between us and you is this tribe of the disbelievers of Mudar. So command us with a decisive matter that we may convey to those behind us and by which we may enter Paradise. They also asked him about drinks. He commanded them with four things and forbade them from four things: He commanded them to have faith in Allah alone. He said: "Do you know what faith in Allah alone means?" They said: Allah and His Messenger know best. He said: "To testify that there is no deity except Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah, to establish the prayer, to pay the zakat, to fast Ramadan, and to give one-fifth of the war spoils." He forbade them from using al-hantam (green-glazed jars), al-dubba' (gourds), al-naqir (hollowed tree trunks) — and perhaps he said: al-muqayyar (pitch-coated vessels) and al-muzaffat (tar-coated vessels). He said: "Memorize these and convey them to those behind you."
الترجمة الأردية
ابو جمرہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مجھے اپنی چارپائی پر بٹھایا کرتے تھے۔ انہوں نے فرمایا: جب قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں یا کون سا وفد ہے؟ انہوں نے کہا: ہم ربیعہ کے لوگ ہیں۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: وفد یا قوم کو مرحبا، نہ ذلیل ہونے والے اور نہ شرمندہ ہونے والے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ کی خدمت میں حرمت والے مہینوں کے علاوہ نہیں آ سکتے کیونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کافروں کا قبیلہ ہے۔ ہمیں کوئی قطعی بات بتائیں جسے ہم اپنے پیچھے والوں کو بتائیں اور اس پر عمل کر کے جنت میں داخل ہوں۔ انہوں نے مشروبات کے بارے میں بھی پوچھا۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے انہیں چار باتوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے منع کیا۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے انہیں اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیا اور پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر ایمان لانا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدصلی اللہ علیہ وسلماللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکاة ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، اور غنیمت میں سے خمس (پانچواں حصہ) دینا۔ اور آپصلی اللہ علیہ وسلمنے انہیں سبز لاکھی مرتبان، کدو کے برتن، کھوکھلی لکڑی کے برتن، اور روغنی برتن کے استعمال سے منع کیا اور فرمایا: ان باتوں کو یاد رکھو اور اپنے پیچھے والوں کو بتاؤ۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الصيام/حدیث: 374]
