عربی (اصل)
وَعَن الحسنِ عَن سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْغُلَامُ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ وَيُسَمَّى وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ لَكِنْ فِي رِوَايَتِهِمَا «رَهِينَةٌ» بدل «مرتهنٌ» وَفِي رِوَايَة لِأَحْمَد وَأبي دَاوُد: «وَيُدْمَى» مَكَانَ: «وَيُسَمَّى» وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَيُسَمَّى» أصحُّ
انگریزی ترجمہ
Hadrat Al-Hasan quoted Hadrat Samura who reported God’s messenger as saying, "A boy is in pledge for his ‘aqiqa. Sacrifice is made for him on the seventh day, he is given a name and his head is shaved.” Ahmad, Tirmidhi, Abu Dawud and Nasa’i transmitted it, but the last two have “a pledge” for “in pledge.” A version by Ahmad and Abu Dawud has “is smeared with blood” 1 in place of “is given a name.” Abu Dawud says th at “is given a name” is sounder.
اردو ترجمہ
حضرت حسن، حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لڑکا اپنے عقیقے کا رہن ہے، ساتویں دن اس کی طرف سے ذبح کیا جائے، نام رکھا جائے اور سر منڈایا جائے۔ (احمد، ترمذی، حضرت ابوداؤد اور نسائی، لیکن حضرت ابوداؤد اور نسائی کی روایت میں ''مرتہن'' کی بجائے ''رہینہ'' ہے، اور ایک روایت میں ''نام رکھا جائے'' کی بجائے ''خون لگایا جائے'' ہے۔ حضرت ابوداؤد نے فرمایا: ''نام رکھا جائے'' صحیح ہے)
