عربی (اصل)
عَن أُمِّ كُرْزٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا» . قَالَتْ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ وَلَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَوْ إِنَاثًا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وللترمذي وَالنَّسَائِيّ من قَوْله: يَقُول: «عَن الْغُلَام» إِلَّا آخِره وَقَالَ التِّرْمِذِيّ: هَذَا صَحِيح
انگریزی ترجمہ
Hadrat Umm Kurz told that she heard God’s messenger say, “Let the birds stay in their roosts.”* She told that she also heard him say, “Two sheep are to be sacrificed for a boy and one for a girl, but it does you no harm whether they are male or female.” *Either that they are not to be molested, or that they are not to be disturbed for the purpose of taking omens. Abu Dawud transmitted it. Tirmidhi and Nasa’i transmit it from “two sheep” to the end, Tirmidhi saying this is a sahih tradition.
اردو ترجمہ
حضرت ام کرز رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: پرندوں کو ان کے گھونسلوں پر رہنے دو۔ فرماتی ہیں: اور میں نے آپ کو فرماتے سنا: لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے، اس سے کوئی فرق نہیں کہ نر ہوں یا مادہ۔ (حضرت ابوداؤد، ترمذی اور نسائی نے ''لڑکے کی طرف سے'' آخر تک، ترمذی نے صحیح کہا)
