عربی (اصل)
وَعَن أبي هُرَيْرَة قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَذَكَرَ الْغُلُولَ فَعَظَّمَهُ وَعَظَّمَ أَمْرَهُ ثُمَّ قَالَ: " لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ. لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ فُرْسٌ لَهُ حَمْحَمَةٌ فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ شَاةٌ لَهَا ثُغَاءٌ يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ نَفْسٌ لَهَا صِيَاحٌ فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفُقُ فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ صَامِتٌ فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئا قد أبلغتك ". وَهَذَا لفظ مُسلم وَهُوَ أتم
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Huraira told that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stood up among them one day and mentioned dishonesty regarding spoil, treating it and everything connected with it as a serious matter. He then said, “Let me not find any of you coming on the day of resurrection with a camel rumbling on his neck and asking me to rescue him,* for I shall say that I can do nothing for him as I have given him full instruction. Let me not find any of you coming on the day of resurrection with a horse whinnying on his neck and asking me to rescue him, for I shall say that I can do nothing for him as I have given him full instruction. Let me not find any of you coming on the day of resurrection with a sheep bleating on his neck and asking me to rescue him, for I shall say that I can do nothing for him as I have given him full instruction. Let me not find any of you coming on the day of resurrection with a soul shouting on his neck asking me to rescue him, for I shall say that I can do nothing for him as I have given him full instruction. Let me not find any of you coming on the day of resurrection with patches flapping on his neck and asking me to rescue him, for I shall say that I can do nothing for him as I have given him full instruction. Let me not find any of you coming on the day of resurrection with gold and silver on his neck asking me to rescue him, for I shall say that I can do nothing for him as I have given him full instruction. *Here and in the following phrases the man seeks to be rescued from the thing about which he was dishonest, it being tied to his neck. (Bukhari and Muslim, this being Muslim’s wording which is more complete.)
اردو ترجمہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایک دن کھڑے ہوئے اور مالِ غنیمت میں خیانت کا ذکر فرمایا اور اسے بہت بڑا گناہ قرار دیا۔ پھر فرمایا: میں نہ پاؤں تم میں سے کسی کو کہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر بلبلاتا اونٹ ہو اور کہے: یا رسول اللہ! میری مدد کیجیے۔ تو میں کہوں گا: میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں تمہیں پہنچا چکا تھا۔ میں نہ پاؤں تم میں سے کسی کو کہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر ہنہناتا گھوڑا ہو اور کہے: یا رسول اللہ! میری مدد کیجیے۔ تو میں کہوں گا: میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں تمہیں پہنچا چکا تھا۔ میں نہ پاؤں تم میں سے کسی کو کہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر ممیاتی بکری ہو اور کہے: یا رسول اللہ! میری مدد کیجیے۔ تو میں کہوں گا: میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں تمہیں پہنچا چکا تھا۔ میں نہ پاؤں تم میں سے کسی کو کہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر چیختی جان ہو اور کہے: یا رسول اللہ! میری مدد کیجیے۔ تو میں کہوں گا: میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں تمہیں پہنچا چکا تھا۔ میں نہ پاؤں تم میں سے کسی کو کہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر لہراتے کپڑے ہوں اور کہے: یا رسول اللہ! میری مدد کیجیے۔ تو میں کہوں گا: میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں تمہیں پہنچا چکا تھا۔ میں نہ پاؤں تم میں سے کسی کو کہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر سونا چاندی ہو اور کہے: یا رسول اللہ! میری مدد کیجیے۔ تو میں کہوں گا: میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں تمہیں پہنچا چکا تھا۔ یہ مسلم کے الفاظ ہیں جو زیادہ مکمل ہیں۔ (متفق علیہ)
