عربی (اصل)
333 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، زَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلاً فَلْيَعْتَزِلْنَا أَوْ قَالَ فَلْيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا وَلْيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقِدْرٍ فِيهِ خَضِرَاتٌ مِنْ بُقُولٍ فَوَجَدَ لَهَا رِيحًا، فَسَأَلَ فَأُخْبِرَ بِمَا فِيهَا مِنَ الْبُقُولِ، فَقَالَ: قَرِّبُوهَا إِلَى بَعْضِ أَصْحَابِهِ كَانَ مَعَهُ فَلَمَّا رَآهُ كَرِهَ أَكْلَهَا، قَالَ: كُلْ فَإِنِّي أُنَاجِي مَنْ لاَ تُنَاجِي
انگریزی ترجمہ
Al-Mughirah ibn Shu'bah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) would pray until his feet became swollen. He was told: "Allah has forgiven your past and future sins." He said: "Should I not be a grateful servant?"
اردو ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جو لہسن یا پیاز کھائے، تو وہ ہم سے دور رہے“یا (یہ کہا کہ اسے)”ہماری مسجد سے دور رہنا چاہیے یا اسے اپنے گھر ہی میں بیٹھنا چاہیے۔“نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں ایک ہانڈی لائی گئی جس میں کئی قسم کی ہری ترکاریاں تھیں (پیاز یا گندنا بھی)، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اس میں بو محسوس کی اور اس کے متعلق دریافت کیا، اس سالن میں جتنی ترکاریاں ڈالی گئی تھیں وہ آپصلی اللہ علیہ وسلمکو بتا دی گئیں۔ وہاں ایک صحابی موجود تھے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اس کی طرف یہ سالن بڑھا دو۔“آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اسے کھانا پسند نہیں فرمایا اور فرمایا:”تم لوگ کھا لو، میری جن سے سرگوشی رہتی ہے تمہاری نہیں رہتی۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 333]
