عربی (اصل)
257 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ(لاَ تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ)قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ جِبْرِيلُ بِالْوَحْيِ وَكَانَ مِمَّا يُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَهُ وَشَفَتَيْهِ فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِ، وَكَانَ يُعْرَفُ مِنْهُ، فَأَنْزَلَ اللهُ الآيَةَ الَّتِي فِي(لاَ أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ)(لاَ تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَه وَقُرْآنَهُ)قَالَ: عَلَيْنَا أَنْ نَجْمَعَهُ فِي صَدْرِكَ، وَقُرْآنَهُ(فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ)فَإِذَا أَنْزَلْنَاهُ فَاسْتَمِعْ(ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَه)عَلَيْنَا أَنْ نُبَيِّنَهُ بِلِسَانِكَ قَالَ: فَكَانَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ أَطْرَقَ، فَإِذَا ذَهَبَ قَرَأَهُ كَمَا وَعَدَهُ اللهُ
انگریزی ترجمہ
Narrated Ibn Abbas, regarding His saying: "Do not move your tongue with it to hasten it" — He said: The Messenger of Allah (peace be upon him) used to find it difficult during revelation. He would move his lips. So Allah revealed: "Do not move your tongue with it to hasten it. Indeed, upon Us is its collection and its recitation." He said: Its collection in your chest, then you may recite it. "So when We have recited it, follow its recitation." He said: Listen to it and be silent. "Then indeed, upon Us is its clarification." Then it is upon Us to make you recite it. After that, the Messenger of Allah (peace be upon him) would listen when Jibril came, and when Jibril left, he would recite it as Jibril had recited it.
اردو ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد﴿لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ﴾[سورة القيامة: 16]”آپ اس کو جلدی جلدی لینے کے لیے اس پر زبان نہ ہلایا کریں“کے متعلق بتلایا کہ جب سیدنا جبریل علیہ السلام آپ پر وحی لے کر نازل ہوتے تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلماپنی زبان اور ہونٹ ہلایا کرتے تھے اور آپ پر یہ بہت سخت گزرتا، یہ آپ کے چہرے سے بھی ظاہر ہوتا تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے وہ آیت نازل کی جو سورہ میں ہے﴿لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ﴾[سورة القيامة: 16]”آپ اس کو جلدی جلدی لینے کے لیے اس پر زبان نہ ہلایا کریں“﴿إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ﴾[سورة القيامة: 17]”یہ تو ہمارے ذمہ ہے اس کا جمع کر دینا اور اس کا پڑھوانا“یعنی قرآن آپ کے دل میں جما دینا اور پڑھا دینا ہمارے ذمہ ہے، پھر﴿فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ﴾[سورة القيامة: 18]”جب ہم اسے پڑھنے لگیں تو آپ اس کے پیچھے یاد کرتے جایا کریں“یعنی جب ہم وحی نازل کریں تو آپ غور سے سنیں، پھر﴿ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ﴾[سورة القيامة: 19]”اس کا بیان کر دینا بھی ہمارے ذمہ ہے“یعنی یہ بھی ہمارے ذمہ ہے کہ ہم اسے آپ کی زبانی لوگوں کے سامنے بیان کرا دیں، بیان کیا کہ چنانچہ اس کے بعد جب جبریل علیہ السلام وحی لے کر آتے تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمخاموش ہو جاتے اور جب چلے جاتے تو پڑھتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ کیا تھا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 257]
