عربی (اصل)
258 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى(لاَ تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ)قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِيلِ شِدَّةً، وَكَانَ مِمَّا يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَنَا أُحَرِّكُهُمَا لَكُمْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُهُمَا وَقَالَ سَعِيدٌ(هُوَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ رَاوِي الْحَدِيثِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ): أَنَا أُحَرِّكُهُمَا كَمَا رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَرِّكُهُمَا، فَحَرَّكَ شَفَتَيْهِ فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى(لاَ تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ)قَالَ جَمْعُهُ لَهُ فِي صَدْرِكَ وَتَقْرَأَهُ،(فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ)قَالَ: فَاسْتَمِعْ لَهُ وَأَنْصِتْ(ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ)ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ تَقْرَأَهُ فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعْدَ ذَلِكَ، إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ اسْتَمَعَ، فَإِذَا انْطَلَقَ جِبْرِيلُ قَرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا قَرَأَهُ
انگریزی ترجمہ
Narrated Ibn Abbas, regarding Allah's saying: "Do not move your tongue with it to hasten it" — He said: The Messenger of Allah (peace be upon him) used to bear the burden of revelation with great effort, and he would move his lips. Allah revealed: "Do not move your tongue with it to hasten it. Indeed, upon Us is its collection and its recitation." He said: Allah collected it in his chest. "So when We have recited it, follow its recitation" — meaning listen to it. Then it is upon Us to clarify it — to make you recite it. After that, when Jibril left, the Prophet (peace be upon him) would recite it.
اردو ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کلامِ الٰہی﴿لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ﴾[سورة القيامة: 16]کی تفسیر کے سلسلہ میں فرماتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنزولِ قرآن کے وقت بہت سختی محسوس فرمایا کرتے تھے اور اس کی (علامتوں) میں سے ایک یہ تھی کہ یاد کرنے کے لیے آپ اپنے ہونٹوں کو ہلاتے تھے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں اپنے ہونٹ ہلاتا ہوں جس طرح آپ ہلاتے تھے، سعید (سیدنا سعید بن جبیر جو کہ یہ حدیث سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں) کہتے ہیں: میں بھی اپنے ہونٹ ہلاتا ہوں جس طرح ابن عباس رضی اللہ عنہما کو میں نے ہلاتے دیکھا، پھر انہوں نے اپنے ہونٹ ہلائے، (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا) پھر یہ آیات اتریں:﴿لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ * إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ﴾[سورة القيامة: 16-17]”اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم! قرآن کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان نہ ہلاؤ، اس کا جمع کر دینا اور پڑھا دینا ہمارا ذمہ ہے“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: یعنی قرآن آپ کے دل میں جما دینا اور پڑھا دینا ہمارے ذمہ ہے،﴿فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ﴾[سورة القيامة: 18]”پھر جب ہم پڑھ چکیں تو اس پڑھے ہوئے کی اتباع کرو“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: (اس کا مطلب یہ ہے) کہ آپ اس کو خاموشی کے ساتھ سنتے رہیں،﴿ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ﴾[سورة القيامة: 19]”اس کے بعد مطلب سمجھا دینا ہمارے ذمہ ہے“، پھر یقیناً یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ آپ اس کو پڑھیں (یعنی اس کو محفوظ کر سکیں)، چنانچہ اس کے بعد جب آپ کے پاس سیدنا جبریل علیہ السلام (وحی لے کر) آتے تو آپ (توجہ سے) سنتے، جب وہ چلے جاتے تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلماس (وحی) کو اسی طرح پڑھتے جس طرح سیدنا جبریل علیہ السلام نے اسے پڑھا تھا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 258]
