عربی (اصل)
1552 صحيح حديث سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ عُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدَهُ نِسَاءٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُكَلِّمْنَهُ، وَيَسْكَثِرْنَهُ، عَالِيَةً أَصْوَاتُهُنَّ فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُمَرُ قُمْنَ يَبْتَدِرْنَ الْحِجَابَ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ فَقَالَ عُمَرُ: أَضْحَكَ اللهُ سِنَّكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: عَجِبْتُ مِنْ هؤُلاَءِ اللاَّتِي كُنَّ عِنْدِي فَلَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَكَ ابْتَدَرْنَ الْحِجَابَ قَالَ عُمَرُ: فَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ كُنْتَ أَحَقَّ أَنْ يَهَبْنَ ثُمَّ قَالَ: أَيْ عَدُوَّاتٍ أَنْفُسِهِنَّ أَتَهَبْنَنِي وَلاَ تَهَبْنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قلْنَ: نَعَمْ أَنْتَ أَفَظُّ وَأَغْلَظُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بَيَدِهِ مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ قَطُّ سَالِكًا فَجًّا إِلاَّ سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ
انگریزی ترجمہ
Narrated Sa'd ibn Abi Waqqas (may Allah be pleased with him): 'Umar asked permission to enter upon the Messenger of Allah (peace be upon him). At that time, some women from Quraysh were with him, talking to him and asking him for more provisions, raising their voices. When 'Umar asked permission, they hastened to cover themselves. The Messenger of Allah (peace be upon him) admitted him while he was smiling. 'Umar said, "May Allah keep you smiling, O Messenger of Allah." He said, "I am amazed at these women who were with me. When they heard your voice, they hastened to veil themselves." 'Umar said, "But you, O Messenger of Allah, are more deserving of their awe." Then he said to them, "O enemies of your own selves! Do you fear me and not the Messenger of Allah (peace be upon him)?" They said, "Yes, for you are harsher and sterner than the Messenger of Allah (peace be upon him)." The Messenger of Allah (peace be upon him) said, "By the One in Whose Hand is my soul, whenever Satan meets you on a path, he takes a different path from yours."
اردو ترجمہ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دفعہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی۔ اس وقت چند قریشی عورتیں (ازواج مطہرات) آپ کے پاس بیٹھی آپ سے گفتگو کر رہی تھیں اور آپ سے (خرچ) بڑھانے کا سوال کر رہی تھیں اور خوب آواز بلند کر رہی تھیں، لیکن جونہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی، وہ خواتین جلدی سے پردے کے پیچھے چلی گئیں۔ پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے انہیں اجازت دی، نبیصلی اللہ علیہ وسلممسکرا رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ ہمیشہ آپ کو ہنستا ہی رکھے، یا رسول اللہ! آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”مجھے ان عورتوں پر تعجب ہوا ابھی ابھی میرے پاس تھیں، لیکن جب تمہاری آواز سنی تو پردے کے پیچھے جلدی سے بھاگ گئیں۔“سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: لیکن اے اللہ کے رسول! آپ زیادہ اس کے مستحق تھے کہ آپ سے یہ ڈرتیں، پھر انہوں نے (ازواج مطہرات سے) کہا: اے اپنی جانوں کی دشمنو! مجھ سے تو تم ڈرتی ہو اور آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمسے نہیں ڈرتیں۔ ازواج مطہرات بولیں کہ واقعی یہی بات ہے کیونکہ آپ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے برخلاف مزاج میں بہت سخت ہیں۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، (اے عمر!) اگر شیطان بھی کہیں راستے میں تم سے مل جائے، تو جھٹ وہ یہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1552]
