عربی (اصل)
1551 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ قَالَ: بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ فَإِذَا امْرَأَةٌ تَتَوَضَّأُ إِلَى جَانِبِ قَصْرٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هذَا الْقَصْرُ فَقَالُوا: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَكَرْتُ غَيْرَتَهُ فَوَلَّيْتُ مُدْبرًا فَبَكَى عُمَرُ، وَقَالَ: أَعَلَيْكَ أَغَارُ يَا رَسُولَ اللهِ
انگریزی ترجمہ
Narrated Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him): While we were with the Messenger of Allah (peace be upon him), he said, "While I was sleeping, I saw myself in Paradise. There was a woman performing ablution beside a palace. I asked, 'Whose is this palace?' They said, 'It belongs to 'Umar ibn al-Khattab.' I remembered his sense of honor, so I turned away." 'Umar wept and said, "Would I feel protective jealousy against you, O Messenger of Allah?"
اردو ترجمہ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس بیٹھے ہوئے تھے، تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میں نے خواب میں جنت دیکھی، میں نے اس میں ایک عورت کو دیکھا جو ایک محل کے کنارے وضو کر رہی تھی۔ میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے؟ تو فرشتوں نے بتایا کہ یہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا محل ہے۔ مجھے ان کی غیرت یاد آئی اور میں وہاں سے فوراً لوٹ آیا۔“یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ رو دیے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! کیا میں آپ کے ساتھ بھی غیرت کروں گا؟[اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1551]
