عربی (اصل)
1553 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللهِ، جَاءَ ابْنُهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ قَمِيصَهُ يُكَفِّنُ فِيهِ أَبَاهُ، فَأَعْطَاهُ ثُمَّ سَأَلَهُ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِيُصَلِّيَ، فَقَامَ عُمَرُ فَأَخَذَ بِثَوْبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ تُصَلِّي عَلَيْهِ وَقَدْ نَهَاكَ رَبُّكَ أَنْ تُصلِّي عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللهُ فَقَالَ(اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً)وَسَأَزِيدُهُ عَلَى السَّبْعِينَ قَالَ: إِنَّهُ مُنَافِقٌ قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللهُ(وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلاَ تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ)
انگریزی ترجمہ
Narrated Ibn 'Umar (may Allah be pleased with them): When 'Abdullah (ibn Ubayy) died, his son 'Abdullah ibn 'Abdullah came to the Messenger of Allah (peace be upon him) and asked him to give him his shirt to shroud his father in, and he gave it to him. Then he asked him to offer the funeral prayer for him. The Messenger of Allah (peace be upon him) stood up to pray, but 'Umar stood and took hold of the garment of the Messenger of Allah (peace be upon him) and said, "O Messenger of Allah, are you going to pray over him when your Lord has forbidden you to pray over him?" The Messenger of Allah (peace be upon him) said, "Allah has given me a choice, saying: 'Whether you ask forgiveness for them or do not ask forgiveness for them — if you should ask forgiveness for them seventy times — never will Allah forgive them.' And I shall do more than seventy." 'Umar said, "He is a hypocrite." So the Messenger of Allah (peace be upon him) prayed over him, and then Allah revealed: "And do not pray [the funeral prayer] over any of them who has died — ever — or stand at his grave."
اردو ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن ابی (منافق) کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹے عبداللہ بن عبداللہ (جو پختہ مسلمان تھے) رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپصلی اللہ علیہ وسلماپنی قمیص ان کے والد کے کفن کے لیے عنایت فرما دیں۔ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے قمیص عنایت فرمائی۔ پھر انہوں نے عرض کی کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمنماز جنازہ بھی پڑھا دیں۔ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنماز جنازہ پڑھانے کے لیے بھی آگے بڑھ گئے۔ اتنے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپصلی اللہ علیہ وسلمکا دامن پکڑ لیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اس کی نماز جنازہ پڑھانے جا رہے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپصلی اللہ علیہ وسلمکو اس سے منع بھی فرما دیا ہے۔ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے، اس نے فرمایا ہے:﴿اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ﴾[سورة التوبة: 80]”آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ان کے لیے استغفار کریں، خواہ نہ کریں۔ اگر آپ ان کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں گے (تب بھی اللہ انہیں نہیں بخشے گا)“اس لیے میں ستر مرتبہ سے بھی زیادہ استغفار کروں گا، شاید کہ اللہ تعالیٰ معاف کر دے۔“سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: لیکن یہ شخص تو منافق ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ آخر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا:﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ﴾[سورة التوبة: 84]”اور ان میں سے جو کوئی مر جائے اس پر کبھی بھی نماز نہ پڑھیے اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1553]
