عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ :" كُنَّ نِسَاءَنَا يَخْتَضِبْنَ بِاللَّيْلِ، فَإِذَا أَصْبَحْنَ، فَتَحْنَهُ فَتَوَضَّأْنَ وَصَلَّيْنَ، ثُمَّ يَخْتَضِبْنَ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الظُّهْرِ، فَتَحْنَهُ فَتَوَضَّأْنَ وَصَلَّيْنَ فَأَحْسَنَّ خِضَابًا، وَلَا يَمْنَعُ مِنْ الصَّلَاةِ "
انگریزی ترجمہ
Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) stated: "Our women used to apply henna dye at night. When morning came, they would remove it, perform wudu, and pray. Then they would apply henna again after the prayer. When Zuhr time came, they would remove it, perform wudu and pray, and their dye turned out well. It did not prevent them from praying."
اردو ترجمہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: "ہماری عورتیں رات کو خضاب لگاتی تھیں۔ جب صبح ہوتی تو اسے کھول دیتیں، وضو کرتیں اور نماز پڑھتیں۔ پھر نماز کے بعد خضاب لگاتیں۔ جب ظہر کا وقت آتا تو اسے کھول دیتیں، وضو کرتیں اور نماز پڑھتیں۔ اس طرح خضاب بھی اچھا ہو جاتا اور نماز سے بھی نہیں رکتی تھیں۔"
