عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَلَمَّا قَفَلْنَا تَعَجَّلْتُ، فَلَحِقَنِي رَاكِبٌ، قَالَ : فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي :" مَا أَعْجَلَكَ يَا جَابِرُ؟ " قَالَ : إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، قَالَ : " أَفَبِكْرًا تَزَوَّجْتَهَا أَمْ ثَيِّبًا؟ " قَالَ : قُلْتُ : بَلْ ثَيِّبًا، قَالَ : " فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ؟ " قَالَ : ثُمَّ قَالَ لِي : " إِذَا قَدِمْتَ فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ "، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْنَا، ذَهَبْنَا نَدْخُلُ، قَالَ : " أَمْهِلُوا حَتَّى نَدْخُلَ لَيْلًا، أَيْ : عِشَاءً لِكَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ، وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ "
انگریزی ترجمہ
Hadrat Jabir ibn Abdullah (may Allah be well pleased with them both) narrated: We were with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) on a journey. When we returned, I hastened ahead, and a rider caught up with me. I turned around and it was the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). He stated: "What made you hurry, O Jabir?" He submitted: 'I am newly married.' He stated: "Did you marry a virgin or a previously married woman?" He submitted: 'Rather, a previously married woman.' He stated: "Why not a virgin who would play with you and you with her?" Then he stated: "When you arrive home, be wise, be wise (i.e., approach your wife with gentleness)." When we arrived and were about to enter, he stated: "Wait until we enter at night, so that the disheveled woman may comb her hair and the woman whose husband was absent may prepare herself."
اردو ترجمہ
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ جب واپس ہوئے تو میں نے جلدی کی، ایک سوار مجھ سے آ ملا، میں نے مڑ کر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تھے۔ فرمایا: "اے جابر! تمہیں کس بات نے جلدی کرائی؟" عرض کیا: میں نیا نیا شادی شدہ ہوں۔ فرمایا: "کنواری سے نکاح کیا ہے یا ثیبہ سے؟" عرض کیا: ثیبہ سے۔ فرمایا: "کنواری کیوں نہیں کی کہ وہ تمہارے ساتھ کھیلتی اور تم اس کے ساتھ کھیلتے؟" پھر فرمایا: "جب تم پہنچو تو عقلمندی سے، عقلمندی سے (یعنی نرمی سے بیوی کے پاس جاؤ)۔" جب ہم پہنچے اور داخل ہونے لگے تو فرمایا: "رکو، یہاں تک کہ ہم رات کو داخل ہوں تاکہ پراگندہ بالوں والی عورت کنگھی کر لے اور شوہر سے دور رہنے والی تیاری کر لے۔"
