انگریزی ترجمہ
Abdullah ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated the lengthy hadith about the eclipse. He said that the people asked: "O Messenger of Allah, we saw you reach out to grab something from your place, and then we saw you step back." The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "I saw Paradise and reached for a bunch of grapes. Had I taken it, you would have eaten from it for as long as the world lasted. Then I was shown the Hellfire, and I have never seen a more frightening sight than today. I saw that most of its inhabitants were women." The people asked: "O Messenger of Allah, why?" He said: "Because of their ingratitude (kufr)." It was asked: "Do they disbelieve in Allah?" The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "They are ungrateful to their husbands and ungrateful for kindness. If you treat one of them well your entire life, then she sees something displeasing from you, she will say: 'I have never seen any good from you.'"
اردو ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نےگرہن کی طویل حدیث ذکر کی پھر کہا کہ لوگوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! (اس وقت) ہم نے آپصلی اللہ علیہ وسلمکو دیکھا کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنی جگہ میں کھڑے کھڑے کوئی چیز اپنے ہاتھ میں پکڑ رہے تھے پھر ہم نے آپصلی اللہ علیہ وسلمکو دیکھا کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمپیچھے ہٹے تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میں نے جنت کو دیکھا تھا اور ایک خوشہ انگور کی طرف میں نے ہاتھ بڑھایا، اگر میں اسے لے آتا تو تم اسے کھایا کرتے جب تک کہ دنیا باقی رہتی اور (اس کے بعد) مجھے دوزخ دکھائی گئی تو میں نے آج کے مثل کبھی خوفناک منظر نہیں دیکھا اور میں نے عورتوں کو دوزخ میں زیادہ پایا۔“لوگوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! یہ کیوں؟ تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ان کے کفر کے سبب سے۔“سوال کیا گیا کہ کیا وہ اللہ کا کفر کرتی ہیں؟ تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان نہیں مانتیں اگر تو ان میں سے کسی کے ساتھ احسان کرے پھر (اتفاقاً) کوئی بدسلوکی تیری جانب سے دیکھ لے تو (بلاتامل) کہہ دے گی کہ میں نے تو تجھ سے کبھی کوئی بھلائی دیکھی ہی نہیں۔“[مختصر صحيح بخاري/حدیث: 565]
