صحیح بخاریOneness, Uniqueness of Allah (Tawheed)#7524صحیح
عربی (اصل)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {لاَ تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ} قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِيلِ شِدَّةً، وَكَانَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ ـ فَقَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ أُحَرِّكُهُمَا لَكَ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحَرِّكُهُمَا فَقَالَ سَعِيدٌ أَنَا أُحَرِّكُهُمَا كَمَا كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُحَرِّكُهُمَا فَحَرَّكَ شَفَتَيْهِ ـ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {لاَ تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ * إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ} قَالَ جَمْعُهُ فِي صَدْرِكَ ثُمَّ تَقْرَؤُهُ. {فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ} قَالَ فَاسْتَمِعْ لَهُ وَأَنْصِتْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ تَقْرَأَهُ. قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ اسْتَمَعَ فَإِذَا انْطَلَقَ جِبْرِيلُ قَرَأَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم كَمَا أَقْرَأَهُ.
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Musa (upon him be peace) bin Abi `Hadrat Aisha that Sa`id bin Jubair reported from Hadrat Ibn `Abbas (regarding the explanation of the Verse: 'Do not move your tongue concerning (the Qur'an) to make haste therewith) . He said, "The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) used to undergo great difficulty in receiving the Divine Inspiration and used to move his lips.' Hadrat Ibn `Abbas said (to Sa`id), "I move them (my lips) as Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) used to move his lips." And Sa`id said (to me), "I move my lips as I saw Hadrat Ibn `Abbas moving his lips," and then he moved his lips. So Allah revealed:-- '(O Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him)!) Do not move your tongue concerning (the Qur'an) to make haste therewith. It is for Us to collect it and give you (O Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him)) the ability to recite it. (i.e., to collect it in your chest and then you recite it).' (75.16-17) But when We have recited it, to you (O Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) through Gabriel) then follow you its recital.' (75.18) This means, "You should listen to it and keep quiet and then it is upon Us to make you recite it." The narrator added, "So Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) used to listen whenever Gabriel came to him, and when Gabriel left, the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) would recite the Qur'an as Gabriel had recited it to him
اردو ترجمہ
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے حضرت ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن ابی حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ( سورۃ القیامہ میں ) اللہ تعالیٰ کا ارشاد «لا تحرك به لسانك» کے متعلق کہ وحی نازل ہوتی ہے تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر اس کا بہت بار پڑتا ہے اور آپ اپنے ہونٹ ہلاتے۔ مجھ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا کہ میں تمہیں ہلا کے دکھاتا ہوں جس طرح نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہلاتے تھے۔ سعید نے کہا کہ جس طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہونٹ ہلا کر دکھاتے تھے، میں تمہارے سامنے اسی طرح ہلاتا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے ہونٹ ہلائے۔ ( حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ ) اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «لا تحرك به لسانك لتعجل به * إن علينا جمعه وقرآنه» یعنی ”تمہارے سینے میں قرآن کا جما دینا اور اس کو پڑھا دینا ہمارا کام ہے جب ہم ( جبرائیل علیہ السلام کی زبان پر ) اس کو پڑھ چکیں اس وقت تم اس کے پڑھنے کی پیروی کرو۔“ مطلب یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام کے پڑھتے وقت کان لگا کر سنتے رہو اور خاموش رہو، یہ ہمارا ذمہ ہے کہ ہم تم سے ویسا ہی پڑھوا دیں گے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا کہ اس آیت کے اترنے کے بعد جب جبرائیل علیہ السلام آتے ( قرآن سناتے ) تو آپ کان لگا کر سنتے۔ جب جبرائیل علیہ السلام چلے جاتے تو آپ لوگوں کو اسی طرح پڑھ کر سنا دیتے جیسے جبرائیل علیہ السلام نے آپ کو پڑھ کر سنایا تھا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {لاَ تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ} قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِيلِ شِدَّةً، وَكَانَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ ـ فَقَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ أُحَرِّكُهُمَا لَكَ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحَرِّكُهُمَا فَقَالَ سَعِيدٌ أَنَا أُحَرِّكُهُمَا كَمَا كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُحَرِّكُهُمَا فَحَرَّكَ شَفَتَيْهِ ـ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {لاَ تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ * إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ} قَالَ جَمْعُهُ فِي صَدْرِكَ ثُمَّ تَقْرَؤُهُ. {فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ} قَالَ فَاسْتَمِعْ لَهُ وَأَنْصِتْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ تَقْرَأَهُ. قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ اسْتَمَعَ فَإِذَا انْطَلَقَ جِبْرِيلُ قَرَأَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم كَمَا أَقْرَأَهُ.
It is narrated by Hadrat Musa (upon him be peace) bin Abi `Hadrat Aisha that Sa`id bin Jubair reported from Hadrat Ibn `Abbas (regarding the explanation of the Verse: 'Do not move your tongue concerning (the Qur'an) to make haste therewith) . He said, "The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) used to undergo great difficulty in receiving the Divine Inspiration and used to move his lips.' Hadrat Ibn `Abbas said (to Sa`id), "I move them (my lips) as Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) used to move his lips." And Sa`id said (to me), "I move my lips as I saw Hadrat Ibn `Abbas moving his lips," and then he moved his lips. So Allah revealed:-- '(O Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him)!) Do not move your tongue concerning (the Qur'an) to make haste therewith. It is for Us to collect it and give you (O Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him)) the ability to recite it. (i.e., to collect it in your chest and then you recite it).' (75.16-17) But when We have recited it, to you (O Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) through Gabriel) then follow you its recital.' (75.18) This means, "You should listen to it and keep quiet and then it is upon Us to make you recite it." The narrator added, "So Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) used to listen whenever Gabriel came to him, and when Gabriel left, the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) would recite the Qur'an as Gabriel had recited it to him
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے حضرت ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن ابی حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ( سورۃ القیامہ میں ) اللہ تعالیٰ کا ارشاد «لا تحرك به لسانك» کے متعلق کہ وحی نازل ہوتی ہے تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر اس کا بہت بار پڑتا ہے اور آپ اپنے ہونٹ ہلاتے۔ مجھ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا کہ میں تمہیں ہلا کے دکھاتا ہوں جس طرح نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہلاتے تھے۔ سعید نے کہا کہ جس طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہونٹ ہلا کر دکھاتے تھے، میں تمہارے سامنے اسی طرح ہلاتا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے ہونٹ ہلائے۔ ( حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ ) اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «لا تحرك به لسانك لتعجل به * إن علينا جمعه وقرآنه» یعنی ”تمہارے سینے میں قرآن کا جما دینا اور اس کو پڑھا دینا ہمارا کام ہے جب ہم ( جبرائیل علیہ السلام کی زبان پر ) اس کو پڑھ چکیں اس وقت تم اس کے پڑھنے کی پیروی کرو۔“ مطلب یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام کے پڑھتے وقت کان لگا کر سنتے رہو اور خاموش رہو، یہ ہمارا ذمہ ہے کہ ہم تم سے ویسا ہی پڑھوا دیں گے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا کہ اس آیت کے اترنے کے بعد جب جبرائیل علیہ السلام آتے ( قرآن سناتے ) تو آپ کان لگا کر سنتے۔ جب جبرائیل علیہ السلام چلے جاتے تو آپ لوگوں کو اسی طرح پڑھ کر سنا دیتے جیسے جبرائیل علیہ السلام نے آپ کو پڑھ کر سنایا تھا۔