عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْهُ، فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ، فَصَلَّى صَلاَةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهْوَ قَاعِدٌ، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ. وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ الْحُمَيْدِيُّ قَوْلُهُ " إِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا ". هُوَ فِي مَرَضِهِ الْقَدِيمِ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَالِسًا وَالنَّاسُ خَلْفَهُ قِيَامًا، لَمْ يَأْمُرْهُمْ بِالْقُعُودِ، وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالآخِرِ فَالآخِرِ مِنْ فِعْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
انگریزی ترجمہ
Hadrat Anas bin Malik (may Allah be well pleased with him) narrates that Hadrat Abu Bakr (may Allah be well pleased with him) used to lead the people in prayer during the illness of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). On Monday, when the people were standing in rows for prayer, the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) lifted the curtain of his chamber and looked at us. He was standing and his blessed face was radiant like a page of the Quran. He then smiled joyfully. We were overwhelmed with happiness at seeing him, and Hadrat Abu Bakr (may Allah be well pleased with him) began to move back (into the row), thinking the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) would come out for the prayer. But he gestured to them to complete their prayer and let the curtain fall. He passed away that very day.
اردو ترجمہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری میں لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے۔ جب پیر کا دن آیا اور لوگ صفوں میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حجرے کا پردہ اٹھایا اور ہماری طرف دیکھتے رہے۔ آپ کھڑے تھے اور آپ کا چہرۂ مبارک مصحف (قرآن پاک کے ورق) کی طرح (روشن) تھا۔ پھر آپ نے مسکرا کر ہنس دیا۔ ہم نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ کر خوشی سے پھولے نہ سمائے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ صف میں آنے لگے یہ سمجھ کر کہ آپ نماز کے لیے تشریف لائیں گے، مگر آپ نے اشارے سے فرمایا کہ اپنی نماز پوری کرو اور پردہ ڈال دیا۔ اسی دن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہو گیا۔
