عربی (اصل)
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ {لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَيْدًا فَكَتَبَهَا، فَجَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَشَكَا ضَرَارَتَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {غَيْرَ أُولِي الضَّرَرِ}
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Al-Bara that when the Verse:-- "Not equal are those of the believers who sit (at home)" (4.95) was revealed, Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) called for Hadrat Zaid who wrote it. In the meantime Ibn Um Maktum came and complained of his blindness, so Allah revealed: "Except those who are disabled (by injury or are blind or lame..." etc)
اردو ترجمہ
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ جب آیت «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کتابت کے لیے بلایا اور انہوں نے وہ آیت لکھ دی۔ پھر عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ حاضر ہوئے اور اپنے نابینا ہونے کا عذر پیش کیا، تو اللہ تعالیٰ نے «غير أولي الضرر» کے الفاظ اور نازل کئے۔
