عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ قَالَ " مَنْ هَذِهِ ". قَالَتْ فُلاَنَةُ. تَذْكُرُ مِنْ صَلاَتِهَا. قَالَ " مَهْ، عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ، فَوَاللَّهِ لاَ يَمَلُّ اللَّهُ حَتَّى تَمَلُّوا ". وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَامَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ.
انگریزی ترجمہ
Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) narrates that once the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) came to her while a woman was sitting with her. He (blessings and peace of Allah be upon him) asked: Who is this? She submitted: Such-and-such woman, and mentioned her extensive praying. He (blessings and peace of Allah be upon him) declared: Enough! You are only obligated to do what is within your capacity. By Allah, Allah the Exalted does not tire of rewarding until you tire of doing. And the most beloved deed to Allah is that which is performed consistently.
اردو ترجمہ
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک بار نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس ایک عورت بیٹھی تھی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کون ہیں؟ میں نے عرض کیا: فلاں عورت ہے، اور اس کی (کثرتِ) نماز کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بس کرو! تم پر اتنا ہی عمل لازم ہے جتنے کی تم میں طاقت ہو۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ (ثواب دینے سے) نہیں اکتاتا لیکن تم اکتا جاتے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ وہ عمل ہے جس پر ہمیشگی کی جائے۔
