عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَاقَةٌ تُسَمَّى الْعَضْبَاءَ لاَ تُسْبَقُ ـ قَالَ حُمَيْدٌ أَوْ لاَ تَكَادُ تُسْبَقُ ـ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ فَسَبَقَهَا، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، حَتَّى عَرَفَهُ فَقَالَ " حَقٌّ عَلَى اللَّهِ أَنْ لاَ يَرْتَفِعَ شَىْءٌ مِنَ الدُّنْيَا إِلاَّ وَضَعَهُ ". طَوَّلَهُ مُوسَى عَنْ حَمَّادٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) who states: The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) had a she-camel called al-'Adba' which was never outrun — Humayd (upon him be mercy) said: or was hardly ever outrun. A bedouin came on a young camel and outran her. This distressed the Muslims greatly. When the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) noticed their distress, he declared: "It is a right upon Allah that nothing in this world rises except that He brings it low."
اردو ترجمہ
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا، وہ کبھی دوڑ میں نہیں ہارتی تھی — حمید (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) نے کہا: یا شاید ہی ہارتی تھی۔ ایک اعرابی اپنے جوان اونٹ پر آیا اور اسے آگے نکال لے گیا۔ مسلمانوں کو یہ بات بہت گراں گزری۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے (ان کی پریشانی) محسوس فرمائی اور ارشاد فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر لازم کر لیا ہے کہ دنیا کی جو چیز بھی بلند ہوتی ہے وہ اسے نیچا کر دیتا ہے۔"
