عربی (اصل)
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، سَمِعَ يَحْيَى بْنَ آدَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ مُعَاذٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلَى حِمَارٍ يُقَالُ لَهُ عُفَيْرٌ، فَقَالَ " يَا مُعَاذُ، هَلْ تَدْرِي حَقَّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ ". قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ " فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلاَ يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَحَقَّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لاَ يُعَذِّبَ مَنْ لاَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ". فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلاَ أُبَشِّرُ بِهِ النَّاسَ قَالَ " لاَ تُبَشِّرْهُمْ فَيَتَّكِلُوا ".
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Mu'adh (bin Jabal, may Allah be well pleased with him) who states: I was riding behind the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) on a donkey called 'Ufayr. He stated: "O Hadrat Mu'adh! Do you know what is the right of Allah upon His servants, and what is the right of the servants upon Allah?" I submitted: Allah and His Messenger know best. He stated: "The right of Allah upon His servants is that they worship Him and associate nothing with Him, and the right of the servants upon Allah is that He does not punish the one who associates nothing with Him." I submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Shall I not give people this glad tidings? He stated: "Do not give them glad tidings, lest they rely upon it (and neglect their deeds)."
اردو ترجمہ
حضرت معاذ (بن جبل) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک گدھے پر پیچھے سوار تھا جس کا نام عُفیر تھا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "اے حضرت معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا حق کیا ہے اور اللہ پر بندوں کا حق کیا ہے؟" میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: "بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور اللہ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ وہ اس شخص کو عذاب نہ دے جو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔" میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں لوگوں کو اس کی بشارت نہ دے دوں؟ فرمایا: "نہیں، انہیں بشارت نہ دو ورنہ وہ (اعمال چھوڑ کر) اسی پر اعتماد کر بیٹھیں گے۔"
