حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ هِلاَلِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ـ رضى الله عنه ـ يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَلَسَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الْمِنْبَرِ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ فَقَالَ " إِنِّي مِمَّا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِي مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا ". فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقِيلَ لَهُ مَا شَأْنُكَ تُكَلِّمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ يُكَلِّمُكَ فَرَأَيْنَا أَنَّهُ يُنْزَلُ عَلَيْهِ. قَالَ ـ فَمَسَحَ عَنْهُ الرُّحَضَاءَ فَقَالَ " أَيْنَ السَّائِلُ " وَكَأَنَّهُ حَمِدَهُ. فَقَالَ " إِنَّهُ لاَ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ، وَإِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ أَوْ يُلِمُّ إِلاَّ آكِلَةَ الْخَضْرَاءِ، أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتْ عَيْنَ الشَّمْسِ، فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ وَرَتَعَتْ، وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَنِعْمَ صَاحِبُ الْمُسْلِمِ مَا أَعْطَى مِنْهُ الْمِسْكِينَ وَالْيَتِيمَ وَابْنَ السَّبِيلِ ـ أَوْ كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ـ وَإِنَّهُ مَنْ يَأْخُذُهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلاَ يَشْبَعُ، وَيَكُونُ شَهِيدًا عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be well pleased with him) that one day the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) sat on the pulpit and we sat around him. He stated, 'What I fear most for you after me is the worldly prosperity and adornments that will be opened for you.' A man submitted, 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Can good ever bring forth evil?' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) remained silent, and so it was said to that person, 'What is the matter with you? You spoke to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) but he does not speak to you.' Then we perceived that revelation was being sent down upon him. He wiped away his perspiration (which would come during revelation) and then inquired, 'Where is the questioner?' It appeared that he appreciated his question. Then he stated, 'Good does not bring forth evil (though misuse can cause harm), for indeed among what the spring grass produces there are plants that kill or bring close to killing — except for the animal that eats the green herbage and when its flanks are full, it faces the sun, defecates and urinates, then grazes again. Likewise, this wealth is a sweet, green pasture. How excellent is the wealth of a Muslim from which he gives to the poor, the orphan, and the wayfarer' — or as the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated — 'And whoever takes it without right is like one who eats but is never satisfied, and it will be a witness against him on the Day of Resurrection.'
اردو ترجمہ
ہم سے حضرت معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، یحییٰ سے، ان سے ہلال بن ابی میمونہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عطاء بن یسار نے بیان کیا اور انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا، وہ فرماتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایک دن منبر پر تشریف فرما ہوئے، ہم بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے اردگرد بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تمہارے متعلق اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تم پر دنیا کی خوشحالی اور اس کی زیبائش و آرائش کے دروازے کھول دئیے جائیں گے۔ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اچھائی برائی پیدا کرے گی؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے۔ اس لیے اس شخص سے کہا جانے لگا کہ کیا بات تھی، تم نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے ایک بات پوچھی لیکن نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تم سے بات نہیں فرماتے۔ پھر ہم نے محسوس کیا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پسینہ صاف فرمایا (جو وحی نازل ہوتے وقت آتا تھا) پھر دریافت فرمایا: سوال کرنے والے صاحب کہاں ہیں؟ ہم نے محسوس کیا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سوال کی تعریف فرمائی۔ پھر ارشاد فرمایا: اچھائی برائی نہیں پیدا کرتی (مگر بے موقع استعمال سے برائی پیدا ہوتی ہے) کیونکہ موسمِ بہار میں بعض ایسی گھاس بھی اگتی ہیں جو جان لیوا یا تکلیف دہ ثابت ہوتی ہیں۔ البتہ ہریالی چرنے والا وہ جانور بچ جاتا ہے کہ خوب چرتا ہے اور جب اس کی دونوں کوکھیں بھر جاتی ہیں تو سورج کی طرف رخ کر کے پاخانہ پیشاب کر دیتا ہے اور پھر چرتا ہے۔ اسی طرح یہ مال و دولت بھی ایک خوشگوار سبزہ زار ہے۔ اور مسلمان کا وہ مال کتنا عمدہ ہے جو مسکین، یتیم اور مسافر کو دیا جائے — یا جس طرح نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا — ہاں اگر کوئی شخص زکوٰۃ حقدار ہونے کے بغیر لیتا ہے تو اس کی مثال ایسے شخص کی سی ہے جو کھاتا ہے لیکن اس کا پیٹ نہیں بھرتا۔ اور قیامت کے دن یہ مال اس کے خلاف گواہ ہو گا۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (12)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحیح بخاری
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، حَدَّثَنَا هِلاَلٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى ال…
صحیح بخاری
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنّ…
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ هِلاَلِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ـ رضى الله عنه ـ يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَلَسَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الْمِنْبَرِ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ فَقَالَ " إِنِّي مِمَّا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِي مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا ". فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقِيلَ لَهُ مَا شَأْنُكَ تُكَلِّمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ يُكَلِّمُكَ فَرَأَيْنَا أَنَّهُ يُنْزَلُ عَلَيْهِ. قَالَ ـ فَمَسَحَ عَنْهُ الرُّحَضَاءَ فَقَالَ " أَيْنَ السَّائِلُ " وَكَأَنَّهُ حَمِدَهُ. فَقَالَ " إِنَّهُ لاَ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ، وَإِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ أَوْ يُلِمُّ إِلاَّ آكِلَةَ الْخَضْرَاءِ، أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتْ عَيْنَ الشَّمْسِ، فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ وَرَتَعَتْ، وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَنِعْمَ صَاحِبُ الْمُسْلِمِ مَا أَعْطَى مِنْهُ الْمِسْكِينَ وَالْيَتِيمَ وَابْنَ السَّبِيلِ ـ أَوْ كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ـ وَإِنَّهُ مَنْ يَأْخُذُهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلاَ يَشْبَعُ، وَيَكُونُ شَهِيدًا عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
It is narrated by Hadrat Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be well pleased with him) that one day the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) sat on the pulpit and we sat around him. He stated, 'What I fear most for you after me is the worldly prosperity and adornments that will be opened for you.' A man submitted, 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Can good ever bring forth evil?' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) remained silent, and so it was said to that person, 'What is the matter with you? You spoke to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) but he does not speak to you.' Then we perceived that revelation was being sent down upon him. He wiped away his perspiration (which would come during revelation) and then inquired, 'Where is the questioner?' It appeared that he appreciated his question. Then he stated, 'Good does not bring forth evil (though misuse can cause harm), for indeed among what the spring grass produces there are plants that kill or bring close to killing — except for the animal that eats the green herbage and when its flanks are full, it faces the sun, defecates and urinates, then grazes again. Likewise, this wealth is a sweet, green pasture. How excellent is the wealth of a Muslim from which he gives to the poor, the orphan, and the wayfarer' — or as the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated — 'And whoever takes it without right is like one who eats but is never satisfied, and it will be a witness against him on the Day of Resurrection.'
ہم سے حضرت معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، یحییٰ سے، ان سے ہلال بن ابی میمونہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عطاء بن یسار نے بیان کیا اور انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا، وہ فرماتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایک دن منبر پر تشریف فرما ہوئے، ہم بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے اردگرد بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تمہارے متعلق اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تم پر دنیا کی خوشحالی اور اس کی زیبائش و آرائش کے دروازے کھول دئیے جائیں گے۔ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اچھائی برائی پیدا کرے گی؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے۔ اس لیے اس شخص سے کہا جانے لگا کہ کیا بات تھی، تم نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے ایک بات پوچھی لیکن نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تم سے بات نہیں فرماتے۔ پھر ہم نے محسوس کیا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پسینہ صاف فرمایا (جو وحی نازل ہوتے وقت آتا تھا) پھر دریافت فرمایا: سوال کرنے والے صاحب کہاں ہیں؟ ہم نے محسوس کیا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سوال کی تعریف فرمائی۔ پھر ارشاد فرمایا: اچھائی برائی نہیں پیدا کرتی (مگر بے موقع استعمال سے برائی پیدا ہوتی ہے) کیونکہ موسمِ بہار میں بعض ایسی گھاس بھی اگتی ہیں جو جان لیوا یا تکلیف دہ ثابت ہوتی ہیں۔ البتہ ہریالی چرنے والا وہ جانور بچ جاتا ہے کہ خوب چرتا ہے اور جب اس کی دونوں کوکھیں بھر جاتی ہیں تو سورج کی طرف رخ کر کے پاخانہ پیشاب کر دیتا ہے اور پھر چرتا ہے۔ اسی طرح یہ مال و دولت بھی ایک خوشگوار سبزہ زار ہے۔ اور مسلمان کا وہ مال کتنا عمدہ ہے جو مسکین، یتیم اور مسافر کو دیا جائے — یا جس طرح نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا — ہاں اگر کوئی شخص زکوٰۃ حقدار ہونے کے بغیر لیتا ہے تو اس کی مثال ایسے شخص کی سی ہے جو کھاتا ہے لیکن اس کا پیٹ نہیں بھرتا۔ اور قیامت کے دن یہ مال اس کے خلاف گواہ ہو گا۔