عربی (اصل)
17/23(حسن الإسناد)عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ}[الإسراء: 24]إِلَى قَوْلِهِ: {كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا}[الإسراء: 24]فَنَسَخَتْهَا الْآيَةُ فِي بَرَاءَةَ: {مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ}[التوبة: 113].
انگریزی ترجمہ
Aisha, may Allah be pleased with her, reported that the Prophet, peace be upon him, said: 'The womb is attached to the Throne. It says: Whoever maintains ties with me, Allah will maintain ties with him, and whoever severs ties with me, Allah will sever ties with him.'
اردو ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، اللہ عزوجل کے اس قول کے بارے میں:«إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاَهُمَا فَلاَ تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ»”اگر کبھی تیرے پاس دونوں میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ ہی جائیں تو ان دونوں کو اف مت کہہ“اس قول تک«كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا»،”جیسے انہوں نے چھوٹا ہونے کی حالت میں مجھے پالا“اسے سورۃ براءت کی آیت نے منسوخ کر دیا:«مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ»”نبی اور ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، کبھی جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کریں، خواہ وہ قرابت دار ہوں، اس کے بعد کہ ان کے لیے صاف ظاہر ہو گیا کہ یقیناً وہ جہنمی ہیں۔“[صحيح الادب المفرد/حدیث: 17]
