Arabic (Original)
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا هَوْذة بن خَليفة، حدثنا عَوْف، حدثني محمد بن سيرين وخلاس، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"إِنَّ لله مئة رحمةٍ، قَسَمَ منها رحمةً بين أهل الدنيا فوَسِعَتهم إلى آجالهم، وأخَّرَ تسعة وتسعين لأوليائه، وإنَّ الله ﷿ قابضٌ تلك الرحمة التي قَسَمَها بين أهل الدنيا إلى التسع والتسعين، فكَمَّلَها مئة رحمةٍ لأوليائه يوم القيامة"(1).هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتَّفقا فيه على حديث الزُّهْري عن حميد بن عبد الرحمن عن أبي هريرة، وسليمان التَّيمي عن أبي عثمان عن سلمان مختصرًا سلمان مختصرًا(2)، ثم خرَّجه مسلم(3)من حديث عبد الملك بن أبي سليمان عن عطاء بن أبي رباح عن أبي هريرة أكمل من الحديثين. وله شاهد على نَسَقِ حديث عوفٍ:[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 185 - على شرطهما وأخرجا منه
English Translation
Abu Hurayrah narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "Indeed, Allah has one hundred mercies. He distributed one mercy among the people of the world, which sufficed them until their appointed terms, and He reserved ninety-nine for His beloved servants. Allah, the Mighty and Majestic, will take back that one mercy He distributed among the people of the world and add it to the ninety-nine, completing one hundred mercies for His beloved servants on the Day of Resurrection." This hadith is authentic upon the conditions of the two Shaykhs, but they did not include it with this wording.
Urdu Translation
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”بے شک اللہ کی سو رحمتیں ہیں، ان میں سے اس نے ایک رحمت دنیا والوں کے درمیان تقسیم فرمائی جو ان کی موت تک ان کے لیے کافی ہے، اور ننانوے رحمتیں اپنے اولیاء (محبوب بندوں) کے لیے بچا کر رکھی ہیں، اور اللہ عزوجل اس ایک رحمت کو بھی جو اس نے دنیا والوں میں بانٹی تھی (قیامت کے دن) ان ننانوے کے ساتھ ملا لے گا، اور یوں قیامت کے دن اپنے اولیاء کے لیے سو رحمتیں مکمل فرما دے گا۔“یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف ز«هري عن حميد بن عبدالرحمن»اور«سليمان تيمي عن ابي عثمان»کی مختصر روایات پر اتفاق کیا ہے، جبکہ امام مسلم نے عبدالملک بن ابی سلیمان کے واسطے سے ان دونوں سے زیادہ مکمل روایت نقل کی ہے۔ عوف کی اس حدیث کے ہم پلہ ایک شاہد بھی موجود ہے:[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 186]
