Arabic (Original)
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَحِيمًا رَقِيقًا فَظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَقْنَا أَهْلَنَا فَسَأَلَنَا عَنْ مَنْ تَرَكْنَا مِنْ أَهْلِنَا فَأَخْبَرْنَاهُ فَقَالَ " ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ فَأَقِيمُوا فِيهِمْ وَعَلِّمُوهُمْ وَمُرُوهُمْ فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ ثُمَّ لْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ " .
English Translation
Hadrat Malik bin Huwairith (may Allah be well pleased with him) reported that we came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and we were all young men of nearly equal age. We stayed with him (blessings and peace of Allah be upon him) for twenty nights, and as the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was extremely kind and tender of heart, he therefore thought that we were eager (to see) our family (we felt homesick). So he asked us about the members of the family that we had left behind and when we informed him, he (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Go back to your family, stay with them, and teach them (beliefs and practices of Islam) and exhort them to good, and when the time for prayer comes, one amongst you should announce Adhan and then the oldest among you should lead the prayer.'
Urdu Translation
اسماعیل بن ابراہیم (ابن علیہ) نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہم سے ایوب نے ابو قلابہ سے حدیث بیان کی، انھوں نے مالک بن حویرث رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم سب نوجوان اور ہم عمر تھے، ہم نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیس راتیں قیام کیا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بہت مہربان اور نرم دل تھے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے خیال فرمایا کہ ہمیں گھر والوں کے پاس جانے کا اشتیاق ہو گا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے ہمارے ان گھر والوں کے بارے میں سوال کیا جنھیں ہم چھوڑ آئے تھے، ہم نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ''اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤ، انھی کے درمیان رہو، انھیں تعلیم دو اور انھیں (اچھائی پر چلنے کا) حکم دو، چنانچہ جب نماز کا وقت آئے تو ایک آدمی تم سب کے لئے اذان کہے، پھر تم میں سے (جو عمر میں) سب سے بڑا ہو وہ تمھاری امامت کرے۔''
