Arabic (Original)
376 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَعْتَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً بِالْعِشَاءِ حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَيْقَظُوا، وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا؛ فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: الصَّلاَةَ فَخَرَجَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الآنَ، يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً، وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ فَقَالَ: لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا هكَذَا(قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ الرَّاوِي عَنْ عَطَاءٍ، الرَّاوِي عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ)فَاسْتَثْبَتُّ عَطَاءً كَيْفَ وَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِهِ يَدَهُ كَمَا أَنْبَأَهُ ابْنُ عبَّاسٍ، فَبَدَّدَ لِي عَطَاءٌ بَيْنَ أَصَابِعِهِ شَيْئًا مِنْ تَبْدِيدٍ، ثُمَّ وَضَعَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ عَلَى قَرْنِ الرَّأْسِ ثُمَّ ضَمَّهَا، يُمِرُّهَا كَذلِكَ عَلَى الرَّأْسِ حَتَّى مَسَّتْ إِبْهَامُهُ طَرَفَ الأُذُنِ مِمَّا يَلِي الْوَجْهَ عَلَى الصُّدْغِ وَنَاحِيَةِ اللِّحْيَةِ، لاَ يُقَصِّرُ وَلاَ يَبْطشُ إِلاَّ كَذلِكَ، وَقَالَ: لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا هكَذَا
English Translation
Narrated Ibn Abbas: The Messenger of Allah (peace be upon him) delayed the Isha prayer one night until the people slept and woke up, slept and woke up. Umar ibn al-Khattab stood up and said: "The prayer!" The Prophet of Allah (peace be upon him) came out — I can still see him now, with water dripping from his head, his hand placed on his head — and said: "Were it not that I would impose hardship on my community, I would have ordered them to pray it at this time."
Urdu Translation
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے ایک رات عشاء کی نماز میں دیر کی جس کے نتیجے میں لوگ (مسجد ہی میں) سو گئے، پھر بیدار ہوئے، پھر سو گئے، پھر بیدار ہوئے، آخر میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اٹھے اور پکارا:”نماز!“، اس کے بعد اللہ کے نبیصلی اللہ علیہ وسلمگھر سے تشریف لائے، وہ منظر میری نگاہوں کے سامنے ہے جب کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمکے سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اور آپ ہاتھ سر پر رکھے ہوئے تھے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اگر میری امت کے لیے مشکل نہ ہو جاتی تو میں انہیں حکم دیتا کہ عشاء کی نماز کو اسی وقت پڑھیں۔“(ابن جریج یہ حدیث سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عطاء کے واسطے سے بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ) میں نے عطاء سے مزید تحقیق چاہی کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے سر پر ہاتھ رکھنے کی کیفیت کیا تھی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں اس سلسلے میں کس طرح خبر دی تھی؟ اس پر سیدنا عطاء نے اپنے ہاتھ کی انگلیاں تھوڑی سی کھول دیں اور انہیں سر کے ایک کنارے پر رکھا، پھر انہیں ملا کر یوں سر پر پھیرنے لگے کہ ان کا انگوٹھا کان کے اس کنارے سے جو چہرے سے قریب ہے اور ڈاڑھی سے جا لگا، نہ سستی کی اور نہ جلدی بلکہ اسی طرح کیا اور کہا کہ پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اگر میری امت پر مشکل نہ گزرتی تو میں حکم دیتا کہ اس نماز کو اسی وقت پڑھا کریں۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 376]
