Arabic (Original)
1163 صحيح حديث الْبَرَاءِ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ: أَكُنْتُمْ فَرَرْتُمْ يَا أَبَا عُمَارَةَ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ: لاَ، وَاللهِ مَا وَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلكِنَّهُ خَرَجَ شُبَّانُ أَصْحَابِهِ وَأَخِفَّاؤُهُمْ حُسَّرًا لَيْسَ بِسِلاَحٍ، فَأَتَوْا قَوْمًا رُمَاةً، جَمْعَ هَوَازِنَ وَبَنِي نَصْرٍ، مَا يَكَادُ يَسْقُطُ لَهُمْ سَهْمٌ، فَرَشَقُوهُمْ رَشْقًا مَا يَكَادُونَ يُخْطِئُون فَأَقْبَلُوا هُنَالِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَابْنُ عَمِّهِ، أَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَقُودُ بِهِ؛ فَنَزَلَ وَاسْتَنْصَرَ؛ ثُمَّ قَالَ: أَنَا النَّبِيُّ لاَ كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ ثُمَّ صَفَّ أَصْحَابَهُ
English Translation
Narrated al-Bara, when a man asked him: "Did you flee on the day of Hunayn, O Abu Umarah?" He said: "No, by Allah, the Messenger of Allah (peace be upon him) did not turn back. But the young and lightly-armed of his companions went out without proper weapons and encountered a people who were skilled archers — the combined forces of Hawazin and Banu Nasr — who hardly missed a shot. They showered them with arrows that scarcely missed. So they retreated to the Prophet (peace be upon him), who was on his white mule, with his cousin Abu Sufyan ibn al-Harith ibn Abd al-Muttalib leading it. He dismounted and called for Allah's help, then said: 'I am the Prophet, no lie; I am the son of Abd al-Muttalib.' Then he arranged his companions in ranks."
Urdu Translation
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ایک صاحب نے پوچھا کہ اے ابوعمارہ! کیا آپ لوگوں نے حنین کی لڑائی میں فرار اختیار کیا تھا؟ سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں، خدا کی قسم! رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے (جو لشکر کے قائد تھے) پشت ہرگز نہیں پھیری تھی۔ البتہ آپصلی اللہ علیہ وسلمکے اصحاب میں جو نوجوان بے سروسامان تھے جن کے پاس نہ زرہ تھی، نہ خود اور کوئی ہتھیار بھی نہیں لے گئے تھے، انہوں نے ضرور میدان چھوڑ دیا تھا کیونکہ مقابلہ میں ہوازن اور بنو نصر کے بہترین تیر انداز تھے کہ کم ہی ان کا کوئی تیر خطا جاتا۔ چنانچہ انہوں نے خوب تیر برسائے اور شاید ہی کوئی نشانہ ان کا خطا ہوا ہو (اس دوران میں مسلمان) نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آ کر جمع ہو گئے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلماپنے سفید خچر پر سوار تھے اور آپصلی اللہ علیہ وسلمکے چچیرے بھائی ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب آپصلی اللہ علیہ وسلمکی سواری کی لگام تھامے ہوئے تھے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے سواری سے اتر کر اللہ تعالیٰ سے مدد کی دعا مانگی، پھر فرمایا:«أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ، أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ»”میں نبی ہوں اس میں غلط بیانی کا کوئی شائبہ نہیں، میں عبدالمطلب کی اولاد ہوں۔“اس کے بعد آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنے اصحاب کی (نئے طریقے پر) صف بندی کی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1163]
